کوئٹہ: بلوچستان فزیو تھراپسٹ کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال جاری، 6 روز مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کی تادم مرگ بھوک ہڑتال اپنے چھ جائز مطالبات کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے گزشتہ چھے روز سے جاری ہے۔ مگر حکومت بلوچستان اور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان کی غیر سنجیدہ اور غیر مہذبانہ رویہ نوجوان فزیوتھراپسٹ کے مستقبلِ اور جذبات کے ساتھ مذاق انتہائی کابل تشویش ہے۔

اس حوالے سے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے رہنماؤں نے کہا کہ نوجوان فزیوتھراپسٹ گزشتہ پانچ مہینوں سے اپنے چھ آئینی حقوق کے لیے ہر طرح کی مشکالات کا سامنا کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ جہاں مہذب اور جمہوری ممالک میں عوام کو مانگے بغیر حقوق مل جاتے ہیں اور بلوچستان میں فزیو تھراپسٹ اس حد تک مجبور ہیں جو علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ، گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا، لاٹھی چارج، گالم گلوچ، بے بنیاد مقدمات اور دس دن قید و بند اور گزشتہ چھے روز سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں مگر بلوچستان کے نام نہاد حکومتی نمائندوں کے ساتھ سیاسی پارٹیاں جو ہمیشہ عوامی مسائل پر سیاست کر کے اپنی پوزیشن کو حاصل کرنے کے بعد ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے برسر پیکار ہیں، مگر عوامی مسائل وہیں کے وہیں ہیں۔

حکومت بلوچستان کی بے حسی اس چیز کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت نام کی کوئی شے ہی نہیں، جس کی واضح مثال فزیو تھراپسٹ کا پانچ مہینوں سے جاری احتجاج اور تادمِ مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ ہے۔ ایک طرف وسائل نہ ہونے پر رونا دھونا اور دوسری طرف غیر ضروری پروجیکٹس اور ٹھیکوں کے ذریعے اپنے من پسند لوگوں کو دے کر اپنا پرسنٹیج وصول کررہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ذاتی خواہشات اور مفادات کو ترجیح دے کر عوامی مسائل کا گلا گھونٹنا انتہائی مایوس کن ہے۔ مسلسل چھ روز سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اکثر افراد کی حالت تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ رات ہمارے ایک ساتھی کی طبعت انتہائی خراب ہونے اور ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے رکشے پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ لہٰذا ہم حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ سمیت دیگر حکام اور سیاسی حلقوں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد سے جلد ہمارے مطالبات تسلیم کریں۔

Share This Article
Leave a Comment