بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے خاندان کو کوئٹہ کا لوکل سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے بلوچستان کے شہریوں کے حقوق پر ڈاکے اور جعلی ڈومیسائلز کے منظم گٹھ جوڑ کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ فواد چوہدری کے خاندان کا اچانک کوئٹہ کا لوکل بن جانا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ کس طرح غیر مقامی اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد بلوچستان کے جعلی ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس حاصل کر کے مقامی لوگوں کے روزگار اور سیاسی و انتظامی حقوق پر قبضہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر فواد چوہدری کی اہلیہ کے نام پر کوئٹہ کا لوکل سرٹیفکیٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد شدید بحث اور عوامی غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
واضح رہے کہ فواد چوہدری پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات رہ چکے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور 9 مئی کے بعد شروع ہونے والے ریاستی کریک ڈاؤن کے دوران پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے اکثریت اب بھی مختلف جیلوں میں قید ہے۔
تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں اور ذرائع کے مطابق، فواد چوہدری ان رہنماؤں کے گروپ میں شامل تھے جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں پارٹی سے علیحدگی اختیار کی اور جیل سے رہائی حاصل کی۔ سیاسی حلقوں میں انہیں موجودہ سیٹ اپ اور اسٹیبلشمنٹ کا اہم مہرہ تصور کیا جاتا ہے، جس کی بدولت انہیں اور ان کے خاندان کو اس نوعیت کی غیر قانونی مراعات اور جعلی دستاویزات کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
بلوچستان میں بی این پی اور دیگر حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے جعلی ڈومیسائل کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں، اور اس تازہ انکشاف نے بلوچستان میں جعلی دستاویزات کے ذریعے مقامی لوگوں کی حق تلفی کے معاملے کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے۔