بی وائی سی کا بلوچستان ہائی کورٹ میں قائدین کی ضمانت کی درخواستوں میں مسلسل تاخیر پراظہار تشویش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بلوچستان ہائی کورٹ میں اپنے قائدین کی ضمانت کی درخواستوں اور دیگر آئینی پٹیشنز پر مسلسل اور بلاجواز التوا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کوئٹہ سے ضمانتیں منسوخ ہونے کے بعد روانہ سال فروری میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ اب تک قائدین کی ضمانت کی درخواستیں تقریباً 5 مختلف اوقات میں سماعت کے لیے مقرر کی گئیں، لیکن ہر بار چیف جسٹس بنچ (کورٹ نمبر 1) سمیت متعلقہ بنچوں کے بورڈ کو منسوخ (Discharge) کر کے سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس بنچ سمیت پورا کازبورڈ ڈسچارج ہونے کے باعث نہ صرف بی وائی سی کی قیادت بلکہ عام سائلین کے مقدمات بھی شدید التوا کا شکار ہو رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق قانون کی نظر میں ضمانت کا معاملہ براہِ راست انسان کی شخصی آزادی سے منسلک ہوتا ہے، جس پر فوری اور بلا تاخیر فیصلہ ہونا قانونی حق ہے۔ "انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے” (Justice delayed is justice denied) کے اصول کے تحت ملزمان کو مسلسل بلا جواز حراست میں رکھنا بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کے تحت شفاف اور تیز تر عدالتی کارروائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، تاہم مسلسل التوا سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام قانونی اور پُرامن راستے اختیار کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ BYC قائدین کی زیرِ التوا ضمانتوں اور آئینی درخواستوں کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کر کے آئین، قانون اور شفاف انصاف کے اصولوں کے مطابق جلد از جلد فیصلہ سنایا جائے تاکہ شہریوں کی شخصی آزادی اور حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article