بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کا پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ سوراب میں فضائی حملہ سے خواتین، بچوں سمیت درجنوں افراد کا شہید ہونے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوے کہا کہ ضلع سوراب میں فضائی حملہ میں خواتین، بچوں سمیت درجنوں افراد کو شہید کرنا ظلم کی انتہا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے اور 16 اگست کو بلوچستان بھر میں احتجاج اور مظاہروں کا اعلان کرتی ہیں۔سوراب واقعے کے خلاف دیے جانے والے دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے خضدار، سوراب، قلات، اور آس پاس کے تمام پارٹی رہنماؤں اور کارکنو کو دھرنے میں شرکت کی ہدایت کرتی ہیں۔
اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری فنانس اختر حسین لانگو، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، پروفیشنل سیکرٹری رمضان بلوچ، بی ایس او مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری، چیئرمین واحد بلوچ، چیئرمین جاوید بلوچ، میر مقبول لہڑی، ٹکری شفقت لانگو، شمائلہ اسماعیل، ضلع کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، ڈپٹی آرگنائزر ڈاکٹر جاوید بلوچ، ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی اراکین ماما نور خان کیھازئی، حاجی صدیق لانگو، میر وائس مینگل، نعمت ہزارہ، فریدہ بلوچ، ملک محی الدین لہڑی، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، دردانہ بلوچ، میر اسماعیل منگل، بی این پی لائرز فورم سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ ظہیر احمد شاہوانی، نائب صدر فہیم قمبرانی ایڈووکیٹ،انفارمیشن سیکرٹری ایڈووکیٹ صدام مینگل، سابق آرگنائزر شہزاد شاہوانی ایڈووکیٹ، سمیت پارٹی کے دیگر رہنما موجود تھے۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے ‘سوراب’ اور لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے دیگر مسائل پر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد، موجودہ جج اب محض موجودہ حکومت کے ملازم بن کر رہ گئے ہیں۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس غیر قانونی فضائی حملہ اور ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے اور یہ بات واضح کرتی ہیں کہ ایسے اقدامات سے نفرت میں مزید اضافہ ہوگا. ‘فارم 47’ کے وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں صورتحال مستحکم ہے، تو پھر بلوچستان کے ہر حصے میں کرفیو کیوں ہے؟ آج کے حکمران ایک بار پھر بلوچستان کے مسئلے کو ایسی نہج پر لے جا رہے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوں۔ بی این پی نے ہمیشہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری جبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے، طاقت کے ذریعے نہیں۔ گزشتہ 75 سالوں سے بلوچوں اور پشتونوں کو صرف ان کے قدرتی وسائل کی وجہ سے لاشیں ہی مل رہی ہیں۔ وڈھ اور مستونگ میں بھی کچھ واقعات پیش آئے ہیں، ان کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ساجد ترین نے کہا کہ ایسے ظالمانہ اقدامات کے بعد لوگ پوچھتے ہیں کہ بلوچستان کی صورتحال کیوں بگڑتی جا رہی ہے۔ 16 اگست کے احتجاج کے بعد، پارٹی ایک مرکزی اجلاس بلائے گی جس میں مستقبل کے احتجاج کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ، سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان حکومت جو کچھ بھی کرتی ہے وہ صرف بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے لیے کرتی ہیں. اسلام آباد کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ ہمیشہ ایک کالونی جیسا سلوک کیا گیا ہیں. بلوچستان کے عوام موت قبول کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اپنی سرزمین چھوڑنے کے لیے نہیں۔