بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے مرکزی چیئرمین جیئند بلوچ کی تیسری بار جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان، سندھ، پنجاب اور جموں کشمیر سمیت پاکستان بھر کی متعدد طلبہ، سیاسی اور ترقی پسند تنظیموں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں۔ تمام تنظیموں نے اس عمل کو ریاستی جبر، بربریت اور ماورائے عدالت پالیسیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے جیئند بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
مختلف تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ بیانات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ (BSF)
بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے جیئند بلوچ کو تیسری بار لاپتہ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ظلم و بربریت اب اس اندوہناک نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ہر بلوچ گھرانہ سوگوار ہے۔ کمسن بچے بھی اس بربریت سے محفوظ نہیں اور ریاست کی جانب سے "جبری گمشدگی” اور "مارو اور پھینکو” کی سفاکانہ پالیسیوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ جیئند بلوچ کو اس سے قبل 2018 اور 2024 میں بھی تاریک زندانوں کی نذر کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور اب 24 جولائی کی رات تقریباً 1 بجے سیکیورٹی فورسز نے چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے انہیں پھر لاپتہ کر دیا۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت کے منظرِ عام پر لایا جائے؛ جب تک یہ سفاکانہ پالیسیاں قائم رہیں گی، ہماری جدوجہد اور مزاحمت جاری رہے گی۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (BSAC)
مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں طالب علم سیاسی کارکنوں، جیند بلوچ اور آصف بلوچ کی ان کے ساتھیوں سمیت گزشتہ ہفتے ہونے والی جبری گمشدگی کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تشویشناک دور میں بلوچ طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور غیر قانونی اقدامات و ہراسانی کا یہ سلسلہ بلوچ معاشرے میں خوف کی فضا قائم کر رہا ہے جو جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے جمہوریت اور نظامِ عدل پر یقین رکھتے ہوئے حکومت سے آئین و قانون کی بالا دستی اور تمام لاپتہ طلبہ و شہریوں کی باحفاظت بازیابی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
پروگریسو اسٹوڈنٹس کولیکٹو (PSC)
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ طلبہ کی جبری گمشدگیوں نے تعلیمی اداروں اور معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اگر جیئند بلوچ پر کوئی الزام ہے تو انہیں پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔
ریولوشنری اسٹوڈنٹس فرنٹ (RSF)
آر ایس ایف نے جیئند بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کو انسانی حقوق کا سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF)
جے کے این ایس ایف نے بلوچستان کے عوام اور طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور طلبہ رہنماؤں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنانا کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں۔
سندھ شاگرد سبھا
سندھ شاگرد سبھا نے کہا کہ طلبہ رہنماؤں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا بنیادی انسانی حقوق کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے جیئند بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے اس صورتحال پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
جیئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جساف)
جساف نے اپنے جاری کردہ بیان میں ریاست کی جانب سے بی ایس او کے چیئرمین کو لاپتہ کیے جانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور ان کی فوری اور بحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی
انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ جیئند بلوچ کی جبری گمشدگی عوامی اور سیاسی تحریکوں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، اور تمام لاپتہ سیاسی کارکنوں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔
مشترکہ مؤقف میں تمام طلبہ اور سیاسی تنظیموں نے مشکل کی اس گھڑی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بلوچ طلبہ سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ وقت، ملکی عدلیہ اور اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اسلحہ کے بل بوتے پر لاپتہ کرنے کا غیر قانونی سلسلہ بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔