آپریشن مرگِ غداران:بی ایل اے نے شفیق مینگل پر حملے کے 5 فدائین کی تفصیلات جاری کردیں

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے ) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں شفیق منگل کے کمپاؤنڈ پر کئے گئے حملے ” آپریشن مرگِ غداران” کو سرانجام دینے والے مجید بریگیڈ کے پانچ فدائین کی تفصیلات باقاعدہ جاری کردیئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی خضدار شہر میں ۸ جولائی کو ریاستی آلہ کار اور قومی غدار شفیق (لغور) مینگل کے مرکزی کمپاؤنڈ پر ہونے والے فدائی آپریشن کے تسلسل میں، اس معرکے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والے اپنے فدائی یونٹ ‘مجید بریگیڈ’ کے پانچ جانباز فدائین کی تفصیلات جاری کرتی ہے۔ یہ آپریشن، جو ‘آپریشن مرگِ غداران’ کے پہلے مرحلے کا آغاز تھا، نوآبادیاتی نظام اور اس کے تحت پلنے والے مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی آپریشنل اور انٹیلی جنس سکت کا مظہر ہے۔ بی ایل اے واضح کرتی ہے کہ اس پیچیدہ معرکے میں شامل پانچ فدائی سنگت دشمن کا محاصرہ توڑ کر بحافظت نکلنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر پانچ سرفروشوں نے اس منظم کاروائی کے مختلف مراحل میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اس اہم آپریشن کو مکمل کیا۔ یہ قربانیاں بلوچ قومی تحریک کی نظریاتی پختگی اور مٹی سے وفاداری کا وہ مستحکم ثبوت ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیئے مشعلِ راہ رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ قومی تحریکِ آزادی میں فدائی جنگ محض ایک عسکری حربہ نہیں بلکہ یہ دھرتی کے دفاع، قومی شعور اور غاصب قوتوں کے خلاف غیر سمجھوتہ کار متبادل کا نام ہے، جسے مجید بریگیڈ کے فدائین نے اپنے لہو سے سینچا ہے۔ خضدار آپریشن کی کامیابی ان فدائی سنگتوں کی طویل عسکری تربیت، مختلف محاذوں پر حاصل کردہ جنگی تجربے اور ‘آپریشن ہیروف ۲’ جیسی وسیع تر کارروائیوں میں ان کی عملی اور کلیدی شمولیت کا منطقی نتیجہ تھی۔ ان شہداء نے یہ ثابت کیا کہ بلوچ مٹی کے غداروں اور نوآبادیاتی مقتدرہ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیئے مجید بریگیڈ کا نیٹ ورک دشمن کے حساس ترین مراکز کے اندر تک رسائی حاصل کرنے کی مکمل سکت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق اس آپریشن کا آغاز شفیق لغورکے گھر کے بیرونی حفاظتی حصار کو توڑنے سے ہوا، جس کی ذمہ داری مجید بریگیڈ کے ایک باصلاحیت فدائی بیبرگ عرف پُھلیہ اسامہ نے سنبھالی۔ ۲۲ سالہ فدائی بیبرگ کا تعلق مستونگ کے علاقے تندیلان سے تھا اور وہ بلوچوں کے بنگلزئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے سال ۲۰۲۵ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ تنظیمی صفوں میں شامل ہونے کے بعد وہ خضدار اور دشت کوئٹہ کے مشکل عسکری محاذوں پر متحرک رہے اور اس آپریشن سے قبل انہوں نے ‘آپریشن ہیروف ۲’ کے دوران کوئٹہ شہر میں زراعت آفس میں قائم فرنٹیر کور کے مرکزی کیمپ پر ہونے والے حملے میں اہم ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ خضدار آپریشن کے دوران انہوں نے بارود سے بھری گاڑی کی کمانڈ سنبھالتے ہوئے اسے مہارت کے ساتھ شفیق لغور کے کمپاؤنڈ کے مرکزی دروازے سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں بیرونی دفاعی لائنیں اور چوکیاں سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور وہاں تعینات دشمن کے مسلح پہرے داروں کی ایک بڑی تعداد موقع پر ہی ہلاک ہوگئی، جس سے اندرونی پیش قدمی کا راستہ صاف ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی دروازے پر ہونے والے اس دھماکے سے پیدا ہونے والی شدید افراتفری کے فوراً بعد، اگلا آپریشنل ہدف کمپاؤنڈ کی اندرونی عمارت کا سیکیورٹی نیٹ ورک توڑنا تھا، جسے مجید بریگیڈ کے ایک اور جانباز فدائی ضیاء الرحمن عرف عمران نے اپنی جانفشانی اور بہادری سے مکمل کیا۔ کھڈکوچہ سے تعلق رکھنے والے ۱۹ سالہ نوجوان فدائی ضیاء الرحمن، جو شاہوانی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، سال ۲۰۲۵ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کا حصہ بنے اور بہت کم عرصے میں اپنی غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کے باعث خضدار اور کوہِ ماران جیسے کٹھن محاذوں پر تنظیمی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔ وہ ‘آپریشن ہیروف ۲’ کے دوران کوئٹہ، ہزار گنجی کے محاذ پر بھی دشمن کے خلاف صفِ اول میں شامل رہے تھے۔ خضدار کے اس معرکے میں، بیبرگ کے فدائی حملے کے فوراً بعد، انہوں نے دشمن کی فائرنگ کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے کمپاؤنڈ کی اندرونی عمارت میں داخلہ حاصل کیا اور اپنے جسم پر بندھی فدائی جیکٹ کو ڈیٹونیٹ کردیا، جس کے نتیجے میں اندرونی حفاظتی لائن مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور دشمن کا داخلی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مفلوج ہو کر رہ گیا، جس نے باقی ماندہ فدائین کو اندرونی پوزیشنز سنبھالنے کا موقع فراہم کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اندرونی سیکیورٹی لائن ٹوٹتے ہی، باقی ماندہ فدائین نے کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوکر مختلف پوزیشنز سنبھال لیں، جہاں فدائی محمد رمضان عرف شعبان نے مرکزی گیٹ اور اس کے ارد گرد کے اہم حصوں پر پوزیشن سنبھال کر صفِ اول میں دشمن کا مقابلہ کیا۔ ۲۵ سالہ فدائی محمد رمضان کا تعلق زہری کے علاقے یکبوزی سے تھا اور وہ چاکر خان کے بیٹے اور زہری قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے سال ۲۰۲۰ میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور طویل عملیاتی خدمات کے بعد سال ۲۰۲۵ میں مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔ آپ بولان، ہربوئی، ناگاہو، زہری اور خضدار جیسے وسیع اور حساس ترین محاذوں پر طویل عرصے تک گوریلا جنگ کا حصہ رہے، جبکہ انہوں نے ‘آپریشن ہیروف ۲’ کے دوران کوئٹہ ریڈ زون پر ہونے والے حساس حملے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ خضدار آپریشن کے دوران انہوں نے کمپاؤنڈ کے مرکزی گیٹ پر دشمن کے نجی ڈیتھ اسکواڈ اور وردی پوش آلہ کاروں کے خلاف سینہ سپر ہوکر روبرو معرکہ لڑا اور صفِ اول میں دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

ترجمان نے کہا کہ دشمن کے اس گڑھ کے اندر آخری وقت تک مزاحمت کو برقرار رکھنے اور شفیق لغور کے رہائشی بلاک کے اندر گھس کر چہار اطراف سے کلیئرنس کرنے کا مرحلہ مجید بریگیڈ کے دو فدائی سنگتوں، فدائی شاہزیب بلوچ عرف سگار اور فدائی شازین بلوچ عرف چیدگ نے سرانجام دیا۔ منگچر کے رہائشی، خلیل احمد کے بیٹے اور بلوچوں کے نچاری قبیلے سے تعلق رکھنے والے فدائی شاہزیب بلوچ نے دسمبر ۲۰۲۴ میں بطور اربن گوریلا تنظیم میں اپنے سفر کا آغاز کیا، جس کے بعد وہ مارچ ۲۰۲۵ میں باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے اور جون ۲۰۲۵ میں مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔ وہ ناگاہو اور شور کے محاذوں پر متحرک رہے اور ‘آپریشن ہیروف ۲’ کے دوران نوشکی مین کیمپ پر ہونے والے معرکے میں شہید کامریڈ سمیر کی براہِ راست کمانڈ میں دشمن کی بھاری عسکری قوت کے خلاف طویل مزاحمت کرچکے تھے۔ ان کے ہمراہ زہری کے علاقے نورگامہ سے تعلق رکھنے والے، بشیر زہری کے بیٹے فدائی شازین بلوچ عرف چیدگ تھے، جنہوں نے سال ۲۰۲۵ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی اور اسی سال ناگاہو اور شور کے محاذوں پر گوریلا جنگ کا حصہ بنے، جبکہ وہ بھی ‘آپریشن ہیروف ۲’ کے دوران نوشکی حملے میں صفِ اول کے جنگجو کے طور پر شامل رہے تھے۔

جیئند بلوچ کا کہنا تھا کہ خضدار آپریشن کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں، فدائی شاہزیب بلوچ اور فدائی شازین بلوچ دشمن کے محاصرے اور بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ کی پرواہ کیئے بغیر شفیق لغور کے نجی رہائشی بلاک کے بالکل اندر تک داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ان دونوں فدائین نے قومی غدار کے گھر کے اندرونی حصوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود مسلح عناصر کے خلاف چار گھنٹوں سے زائد وقت تک روبرو اور اعصاب شکن معرکہ لڑا، جس کے باعث شفیق لغور اپنے ساتھیوں کو مرتا چھوڑ کر خفیہ راستے سے بھاگنے پر مجبور ہوا۔ جب چار گھنٹوں کی مسلسل اور شدید ترین فائرنگ کے بعد ان دونوں جانبازوں کا گولہ بارود اور گولیوں کا اسٹاک ختم ہونے کے قریب پہنچا، تو انہوں نے قابض فوج یا ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں گرفتار ہونے یا دشمن کی گولی سے مرنے کے بجائے، بی ایل اے کے تاریخی اور نظریاتی ‘آخری گولی کے فلسفے’ پر عمل کرتے ہوئے اپنی آخری گولیوں سے خود اپنی شہادت قبول کی اور مٹی کے قرض سے سرخرو ہوکر امر ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اپنے ان پانچوں فدائین کے انقلابی عزم، تنظیمی نظم اور قربانی کو اعلیٰ ترین قومی الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ ان جانباز فدائین نے اپنی حربی صلاحیتوں اور پاکیزہ لہو کے نذرانے سے یہ ثابت کردیا ہے کہ بلوچ مٹی کے تحفظ، قومی بقا کی جنگ اور دھرتی کے غداروں کے عبرت ناک محاسبے کے لیئے مجید بریگیڈ کا ہر فدائی کسی بھی حد تک جانے کا عزم اور سکت رکھتا ہے۔ ان شہداء کا بہایا گیا ایک ایک قطرہ خون بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے نظریاتی سفر کو مزید توانائی فراہم کرے گا، اور جب تک دھرتی سے غاصبانہ قبضے اور غداری کا آخری نشان مٹ نہیں جاتا، بی ایل اے کے فدائین کے یہ کاری وار اسی تسلسل، شدت اور وسیع جغرافیائی پھیلاؤ کے ساتھ جاری رہیں گے۔ شہداء کا یہ خون ہماری آزادی کا ضامن اور غداروں کی حتمی نابودی کا پیش خیمہ ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article