صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران میں اہداف پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اس حوالے سے ایران کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سینٹ کام کی جانب سے ان حملوں کے اعلان سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ آیا امریکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کیے گئے حملے کا جواب دے گا تو انھوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ دیکھ لیں گے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں ان امریکی کارروائیوں کو ایرانی ڈرون حملے کا ’طاقتور جواب‘ قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کو جنگ بندی کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ جمعرات کی شب ایک ڈرون حملے میں کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
سینٹ کام کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایرانی فورسز کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلا اشتعال جارحیت واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘
سینٹ کام کے مطابق ’ایران کے خطرناک طرز عمل نے نہ صرف میری ٹائم سکیورٹی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس اہم بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ میں آزادیٔ نقل و حمل کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور اُن کی معاونت جاری رکھے گی۔
یاد رہے کہ فروری کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد سے تہران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، اور اس کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سمجھوتے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اگلے 60 روز تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائے گا۔
جمعہ کی دوپہر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ امریکہ ممکنہ طور پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کا کس طرح ردعمل دے گا یا آیا صدر ٹرمپ اس حملے کے بعد بھی جنگ بندی کو برقرار سمجھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس نوعیت کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ’آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا۔‘ ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ انھوں (ایران) نے حملہ کیا۔ انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘