کوئٹہ : وی بی ایم پی کیمپ کو نقصان پہنچانے کے باوجود احتجاج جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاجی کیمپ کو 5649 دن ہوگئے۔

بی این پی تربت کے رہنما منظور احمد بلوچ حفیظ بلوچ اور وکلا برادری میں صدام ایڈووکیٹ، عمران میروانی احسان بلوچ اور دیگر مرد اور خواتین نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی این پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے بلوچ حریت پسند عوام کے خلاف سرگرم ہیں جوکہ بلوچستان میں مخبروں کی کامیابی کے خاتمے کے بعد بلوچ قوم کے خلاف کھلے عام درندگی پر مشتمل کاروئیاں کر رہے ہیں جن کا مظاہرہ آواران اور مشکے میں وسیع پیمانے ہر آپریشن شروع کرنے سے قبل کیا گیا آواران بازار تیرتیج اور بیدی میں باکستانی ڈیتھ اسکواڈ نے یلغار کرکے آبادیوں کو میں فائرنگ کرکے خوف و حراس پہلانے کی کوشش کیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام پر تشدد کرکے آواران میں تین صرف گاڑیوں میں مختلف تاریخوں میں ان کے اپنے کلینک سے پہلے ڈاکٹر عبدلحی بلوچ کو پھر کچھ دن بعد میں 12 جون 2024 کو سرے عام اٹھا کر لے گئے جب کہ تیرتیج بیدی آواران بازار میں شدید فائرنگ کرکے خوف، حراس پہلایا گیا ۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ دنیا کے دیگر حریت پسند اقوام کی طرح بلوچ قوم نے بھی بلوچ سرزمین پر پاکستانی قبضہ اور گزشتہ چھ دہائیوں سے بلوچ قوم کے خلاف جاری نسل کشی کی کاروائیوں اور بلوچستان بھر میں جاری پاکستانی دہشت گردی کے خلاف بھرپور انداز میں آواز اٹھائی۔ جبری اغوا کیئے گئے بلوچوں کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو سولہ سال 5650 دن مکمل ہوگئے دنیا کے مختلف اقوام میں مردو خواتین نے ظلم و جبر کے خلاف اور جبر کے خلاف شکار جبری لاپتہ کیئے جانے والے بلوچوں کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد کی ہے جوکہ آج تاریخ کا حصہ بن چکی ہے جبری لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کی جدوجہد کا کاروان مشکلات اور سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے 5650 روز مکمل کرپائی لیکن ابھی ہزاروں لاپتہ بلوچوں کے اہلخانہ جہدکاروں کے شانہ بشانہ پرامن جدوجہد میں مصروف عمل ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment