اداروں نے بلوچ سرزمین پر کشت وخون کی پالیسی میں شدت لائی ہے، ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5131 دن ہوگئے۔

سیاسی سماجی کارکنان داد محمد بلوچ اصغر بلوچ نور محمد بلوچ اور خواتین نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی اداروں نے بلوچ سرزمین پر اپنی کشت خون کی پالیسی میں مزید شدت لائی ہے شعور نظریانی اور فکر ہتھیار سے لیس بلوچ فرزندوں نے پاکستان کو سیاسی معاشی اور افتضادی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے جس سے بلوچستان میں اس کے قبضہ گیریت کے وجود کی بوسدہ دیوار ذمین بوس ہونے کو ہے جبری طور لاپتہ فرزندوں کی لازوال قربانیوں کے بدولت عالمی برادری بلوچ قومی مسلے کی جانب متوجہ ہوئی ہے اور اقوام متحدہ بلوچستان سے عالمی سطح پر پاکستان کے تمام جرائم کا پردہ فاش ہو گیا ہے جس سے حواس باختگی میں مبتلا پاکستان فورسز نے اپنے وحشت بربریت میں مزید شدت لائی ہے مگر ریاست پاکستان کی تمام تر ظلم و بربریت اور اس کے گماشتوں کی ریشہ دوانیاں بلوچ پر امن جدجہد کے سامنے ریت کی دہوار ثابت ہوکر پاکستان کی ناکامی کو چپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اس سے پہلے پاکستان نے ہمیشہ بلوچوں پر جنگ مسلط کیا تھا لیکن اس پرامن جدجہد کو شروع اور پاکستان پر مسلط ایک بلوچ محب وطن طبقے نے کیا اس جدجہد نے پاکستان کو انگشت برندان کیا اس وقت کیوںکہ اس وقت پاکستان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کیوںکہ پاکستان یہ سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے بلوچ لیڈران سیاسی پارٹیاں مراعات ذاتی عیش و عشرت سے بنے ہوئے ایسے جال میں پھنسایا کہ یہ چائیں بھی تو اس سے نہیں نکل کر اپنے عوام کے لئے سوچ بھی نہیں سکتے۔ آج بلوچوں میں کافی شعور بیدار ہوا ہے کہ خانہ جنگی بلوچوں کو مزید تقسیم در تقسیم کرکے دائمی غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دینے کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج کے جنرل جو بار بار اپنے ملک کی آئین کی پامالی کرکے اس پرشب خون مارتا ہو ہمیس اس کے آئین کی پاسداری کا درس دینا حیران کن ہے ۔

Share This Article
Leave a Comment