اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق رپورٹ پیر کو جاری کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے حالیہ مہینوں میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ خاص طور پر ان کی تعلیم اور دیگر ملازمتوں کے سلسلے میں پابندیاں بڑھ رہی ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے مئی اور جون کے حالات پر مبنی اپنی رپورٹ میں کہا کہ طالبان کی وزارت صحت عامہ نے اعلان کیا ہے کہ خصوصی طبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے صرف مردوں کو ٹیسٹ دینے کی اجازت ہوگی۔ ٹیسٹ دینے پر پابندی کے اس فیصلے سے قبل فروری میں میڈیکل کی طالبات پر گریجویشن کے امتحانات دینے پر پابندی عائد کی گئی تھی اور گزشتہ دسمبر میں خواتین کے یونیورسٹیوں میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔
اقوام متحدہ نے بتایا کہ ایسے کیسز بھی ریکارڈ میں آئے ہیں جن میں طالبان نے خواتین کی نقل و حرکت اور ملازمتوں کی آزادی پر پہلے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی کے اوائل میں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے والی دو افغان خواتین ملازمین کو طالبان فورسز نے ایئرپورٹ سے اس لیے گرفتار کر لیا تھا کہ انھوں نے بغیر کسی مرد رشتہ دار کے سفر کیا تھا۔