انسان کا نظریاتی ہونا ایک بہت ہی عمدہ اور اعلی اور بہت ہی اہمیت کی حامل رجحان ہے۔ لیکن اس سے کئی زیادہ انسان کی عملی رجحان مفید و کارمند ہوتی آئی ہے۔ انسان ہمیشہ سے عملی اور نظریاتی رجحان میں سے آخرالذکر رجحان میں زیادہ سرگرم و فعال رہی ہے۔ جبکہ انسان کی ارتقاء اور زوال میں عملی ہونے کی زیادہ ضرورت و تقاضا تھی اور ہے۔ اگرچہ نظریاتی ہونا انسان کی ارتقاء میں بڑے پیمانے پر مفید تو رہی ہے لیکن اگر ہم انسانی زوال کی صورتحال دیکھیں تو بہت ہی کم عملی ہونے کی وجہ سے انسانی ارتقاء سے کئی زیادہ انسان کی زوال ہوتی آئی ہے، اور یہ اس لیے کہ انسان ہمیشہ نظریاتی ہونے میں زیادہ فعال رہا ہے اور یہی صورتحال اپنے اصل مقصد اور تقاضوں کے تکمیل کیے بغیر جو عملی ہونے سے ممکن تھے رائیگاں گزرتی آئی ہے، اور گزرتی جائے گی اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو۔ چنانچہ، اگر انسان نے نظریاتی ہونے سے ذیادہ عمل کیا ہوتا تو آج نہ صرف انسانی زوال کا تناسب یقینا اتنی بڑی پیمانے پر نہ ہوتی بلکہ انسانی یا معاشرتی ارتقاء میں اور زیادہ بہتری اور خوبصورتی آتی۔
مذکورہ نقطہ نظر سے میرا یہ مطلب ہے کہ خواہ ماضی کے یا حال کے فلسفی، دانشور ادیب جیسے شخصیات ہمیشہ صرف نظریاتی ہوتے آئے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی سرگرمیوں، مطالعے و تحقیق میں وہ صرف نظریے پیدا کرنے یا سوچ و فکر کرنے کے عمل و رجحان میں ملتی ہیں، یعنی کہ انہوں نے اپنی زندگی و وقت اپنے توانائیاں سوچنے اور نظریے پیدا کرنے میں ضائع کی ہیں اور کرتے آئے ہیں جو کہ بری بات تو نہیں ہے لیکن اگر ہم توڑا غور وفکر کر کہ دیکھیں تو وہ صرف اور صرف اسی رجحان و کیفیت میں مصروف عمل ہوتے آئے ہیں جو انسانی ارتقاء میں بہت کم مفید رہا ہے جبکہ انسانی زوال میں، یہ نہیں کہ انسان کی نظریاتی رجحان کی وجہ سے بہت محرک کار رہی ہے بلکہ صرف نظریاتی انداز و فکر کے اپنانے کے سبب رہی ہے کیونکہ صرف سوچنے یا نظریاتی ہونے سے انسانی یا معاشرتی ارتقاء و تبدیلی ممکن نہیں ہوتی بلکہ آج اگر اتنا انسانی یا معاشرتی ارتقاء و تبدیلی ہوئی ہے تو وہ انسان کی عملی ہونے کے سبب یعنی کہ وہ نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی صورت میں بھی بہت سرگرم اور فعال رہا ہے۔
در حقیقت عملی رجحان نے ہی انسانی و معاشرتی ارتقاء و تبدیلی ممکن بنائی ہے کیونکہ اگر دیکھا جائے تو بغیر عمل کے نظریہ یا صرف سوچنے کا فعل انسانی و معاشرتی ارتقاء کے میدان میں کوئی معائنے نہیں رکھتی۔ مثلا، اگر آپ ایک گاڑی بنانے کا سوچ رہے یا منصوبہ بنا رہے ہیں تو اس گاڑی کو تخلیق کرنے کیلئے آپ نے بہت سے عملی کام انجام دینا ہوگا، تب جاکے آپ اس گاڑی کی تخلیق کے عمل کو پورا کر سکتے ہو اور اسے دوڑا سکتے ہو۔ اس طرح اس پہ صرف سوچنا یا منصوبہ بنانا اور عمل نہ کرنا یہ آپ کا نظریاتی رجحان ہوتا ہے۔ جبکہ اس پر عمل کر کے آپ نے قدم بہ قدم ہر وہ اوزار و مواد لگانا یا ڈالنا ہوگا جو اس کے تخلیق کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ یہ آپ کا اس سوچ و نظریہ کے اوپر عملی رجحان ہوتا ہے۔ چنانچہ، اپنے مقصد یا منصوبہ کیلئے نظریہ ضروری تو ہوتا ہے لیکن اس سے کئی زیادہ عمل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ برزکوہی اپنے ایک آرٹیکل میں چند مثال پیش کرکے کہتا ہے کہ "بغیر عمل کے علم اس پانی کی مانند ہوتا ہے جو ضرور گہرا اور پھیلا ہوتا ہے لیکن ایک جگہ پر رکا ہوا اور بدبودار ہوتا ہے۔ یا بغیر عمل کے علم وہ گاڑی ہے جس میں شروع سے پٹرول کی ٹینکی کی کوئی جگہ نہیں۔ یا بغیر عمل کے علم وہ کرسی ہے جس کی چاروں ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔” برزکوہی کے ان مثالوں کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو وہ علم نظریے کی ہی ترجمانی کر رہا ہے۔ انسان نظریہ علمی بنیاد پر ہی رکھ سکتا ہے یا پیدا کر سکتا ہے۔
یقینا عمل سے آپ چیزوں کو تبدیل کر سکتے ہو۔ عمل سے آپ اپنے مقصد کی تکمیل کر سکتے ہو۔ عمل سے آپ انسانی و معاشرتی ارتقاء کر سکتے ہو۔ بغیر عمل کے نظریہ اس گاڑی جیسا ہے جس کو تخلیق کرنے کے بارے میں آپ نے سوچا تو ہے لیکن عمل نہ کر کے اس کی بنیاد تک نہیں رکھی ہے۔ لہذا، آپ جتنا بھی اس گاڑی کے تخلیق پہ نظریاتی رہو، جتنا بھی سوچو یا منصوبہ بناو، جب تک آپ نے عمل نہیں کیا ہے گاڑی کے تخلیق کا مقصد پورا نہیں کر سکتے۔ اور اگر ان ضروری وسائل و اوزاروں میں سے ایک بھی کم ہو یا نہ ڈالا یا لگایا جائے تو گاڑی کے تخلیق کا مقصد اپنے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائے گا جس سے گاڑی اپنے رسمی طور پر نہیں چل سکے گی۔ اسلیئے، اگرچہ، عمل کرنا شروع کر بھی لو لیکن اگر اس عمل میں کوئی کمی یا کمزوری ہو تو وہ اپنے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا یا آپ کے نظریے و منصوبے سے سازگار نہیں ہوگا، یعنی کہ گاڑی نہیں چل سکے گی اگر اس میں ایک بھی ضروری اوزار یا مواد کی کمی ہو۔ اسلیئے نظریے کے ساتھ ساتھ عمل انتہائی ضروری ہے لیکن ایک مکمل اور بہترین عمل جب تک نہ ہو تو مقصد ادھورا رہے اور نظریاتی صورحال تو ویسے بھی لاحاصل ہوگا۔
چنانچہ، انسانی ارتقاء یا معاشرتی ترقی و تبدیلی میں ہمیشہ انسان کی عملی رجحان کار آمد رہی ہے نہ کہ نظریاتی۔ نظریہ و سوچ کے بغیر عمل مفید رہا ہے لیکن عمل کے بغیر نظریہ کسی بھی صورتحال کیلئے کار آمد ثابت نہیں ہوا، بلکہ نظریے بغیر عمل کے ہمیشہ انسانوں کے مطالعاتی یا تحقیقی سرگرمیوں میں کوئی مثبت یا فائدہ مند نتیجے و اثرات پیدا کئے بغیر رائیگاں گئی ہیں۔ اگر کل سے آج تک انسان نظریاتی ہونے سے زیادہ عملی ہونے کو ترجیح دیتا یعنی کہ عملی رجحان میں زیادہ سرگرم و فعال ہوتا تو آج انسانی ارتقاء اور بھی خوبصورت بہتر قابل قبول اور پسندیدہ ہوتا، انسان کی معاشرتی نظام اور حالات و رجحانات ایک بہترین انداز و صورت میں ہوتے۔ انسان کی زندگی کے تقاضوں کیلئے جتنا عملی رجحان کی ضرورت رہی ہے اور ابھی بھی ہے اتنا نظریے کی نہیں تھیں اور نہ ہے۔ مگر پھر بھی انسان ہمیشہ نظریاتی رجحان میں زیادہ، بلکہ ضرورت سے زیادہ رہتا آرہا ہے۔
اگر ہم مغربی تہذیب اور مشرقی تہذیب کو موازنہ کر کے دیکھیں تو مغرب مشرق سے کئی زیادہ ہر اعتبار سے آگے ہے۔ ترقی، امن، خوشحالی، انصاف، صنفی مساوات، حقوق کے تحفظ اور دہشتگردی، قتل و غارتگری نہ ہونے کے برابر جیسے رجحانات وہاں مشرق کے مقابلے میں کئی زیادہ پائے جاتے ہیں، کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا بہت پہلے کہ صرف نظریاتی ہونے سے انسانی و معاشرتی ارتقاء و تبدیلی ممکن نہیں بلکہ اس سے کئی زیادہ عملی ہونا ضروری ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے فلسفی، دانشور اور ادیبوں کے نظریے کو عملی جامہ پہنا کر اپنی ارتقاء ایسے کر چکے کہ اگر دیکھا جائے تو نہ صرف انہوں نے دنیا کے ستر فیصد کو مسخر کرتے آئے ہیں بلکہ ترقی و ارتقاء کے اعتبار سے مشرق سے کئی زیادہ کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ اگر مشرق نے بھی اپنی ارتقاء و معاشرتی نظام اور حالات کے تبدیلی کیلئے نظریے سے زیادہ عمل کیا ہوتا تو آج مشرق کی صورتحال بھی مغرب جیسا خوشحال، پرامن اور آذاد ہوتا۔ یہ نقطہ نظر بالکل قابل تردید و تنقید نہیں کہ مشرق کیسے آذاد خوشحال اور پرامن نہیں ہے۔ ان تینوں جیسے اور بھی مثبت رجحانات کے مشرق میں عدم موجودگی روز روشن کی طرح عیاں ہے جن کے متعلق وضاحت دینے کی ضرورت بھی نہیں۔
انصاف، آذادی، خوشحالی، امن، صنفی مساوات اور آذادی اظہار جیسے مثبت رجحانات و صورتحال کی مشرقی تہذیب میں عدم موجودگی اور دہشتگردی، قتل و غارت، اغواء برائے تاوان، لوگوں کو اغواء و لاپتہ کرنے کا تسلسل، انسانی حقوق کے خلاف ورزی و پامالی جیسے منفی رجحانات و صورتحال کا مشرقی تہذیب کو درپیش ہونا یہ سب مشرق کی عدم عملی اور ضرورت سے زیادہ نظریاتی ہونے کے سبب ہیں۔ انسان، خاص طور پر مشرقی تہذیب اپنے مسائل و مصیبتوں یا منفی و برے حالات اور مشکلات سے بچنے کیلئے یا ان کا خاتمہ کرنے کیلئے ہمیشہ نظریاتی رجحان میں زیادہ سرگرم رہتی آئی ہے یا صرف نظریاتی انداز و فکر اپناتا آرہا ہے جبکہ مذکورہ جیسے تسلسل یا حالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے عملی اقدامات یا انداز و فکر جیسے رجحانات نہ ہونے کے برابر رہی ہیں جو کہ ابھی تک یہی صورتحال نظر آتا ہے۔
ہمیں ہمیشہ سے دیکھنے کو ملتا آیا ہے کہ جب بھی انفرادی یا اجتماعی طور پر کوئی مسئلہ و مصیبت یا ناگزیر حالات رونما ہوتے ہیں تو وہ فرد یا اجتماع ان سے نجات پانے یا چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے عملی طور پر کبھی تیار نہیں ہوتا، البتہ نظریاتی طور پر بے حساب تیار ہوتے ہیں۔ حالانکہ، ہزاروں نظیر استدلال اور منطق مذکورہ جیسے صورتحال کے متعلق ملیں گی کہ ان سے بچنا یا چھٹکارا حاصل کرنا عملی رجحان و انداز سے ممکن رہی ہیں اور ممکن ہیں نہ کہ نظریاتی انداز و صورت میں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عملی رجحان نے ہی انسانی و معاشرتی ارتقاء و تبدیلی کو ممکن بنایا ہے اور ممکن بنا سکتا ہے۔ بغیر عمل کے نظریہ کچھ بھی نہیں ہے چاہے وہ آپ کا اپنا نظریہ ہو یا کسی دوسرے کا، جب تک اس کو آپ نے عملی صورت و انداز میں آزمایا نہیں ہے یا عملی جامہ پہنایا نہیں ہے تو یقینا وہ بے کار ہے۔ بے معنی ہے۔ اس کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں۔ بقول برزکوہی "بغیر عمل کے نظریہ اس گاڑی جیسا ہے جو گاڑی تو ہے لیکن اس میں انجن نہیں ہے۔” یا نظریہ بغیر عمل کے کوئی گاڑی یا جہاز کی موجودگی میں اس میں انجن یا اہم و ضروری حصہ نہ ہونے کے مترادف ہے جو خود وجود تو رکھتی ہے لیکن بے کار و بے مقصد ہے۔
مزید براں، ہر سوچ و نظریہ کیلئے ضروری ہے کہ اس پر اگر سو فیصد نہیں تو دس سے بیس فیصد کم سے کم حکمت عملی ہو جس پر انسان عمل کر کے اپنے یقینی نظریے و منصوبے کو کسی حد تک عملی شکل میں پورا کر سکے۔ چنانچہ، انسان، فرد یا کوئی قوم جن کو اگر کسی بھی طرح کے منفی و برے حالات اور مشکلات، نظام یا کوئی بری صورتحال درپیش ہوں تو اسے چاہیے کہ ہرحال میں عملی طور پر ان سے نپٹنے کےلئے تیار ہو۔ انسان غور و فکر کرے کہ اگر اس کے اوپر کوئی ایسی حالت و صورتحال ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا یا نجات و آذادی حاصل کرنا ضروری ہے، یا اس کیلئے کسی چیز کو تخلیق کرنا یا حرکت میں لانا ضروری ہے تو وہ انتظار نہ کرے کہ کب وہ اپنے آپ ہونگے۔ اس کےلئے یقینا انسان کی عملی محنت کوشش اور لگن ضروری ہے۔
مندرجہ بالا نقطہ نظر کے تناظر میں اگر بلوچ قوم کی بات کریں تو ان پہ جو حالات اور نظام مسلط کیا گیا ہے ان سے چھٹکارا، نجات یا آذادی حاصل کرنے کیلئے صرف اور صرف بلوچ قوم کو عملی ہونے کی انتہائی ضرورت ہے۔ لیکن دکھ و افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ وہ مذکورہ صورتحال سے بچنے یا اپنے قومی مقصد کے حصول کیلئے عملی طور پر تیار ہیں اور نہ ہی نظریاتی طور پر۔ اگر جن افراد یا لوگوں میں کسی حد تک نظریاتی رجحان نظر آتا ہے بھی ہے تو وہ عملی صورت میں قطعا تیار نہیں، اور نہ ہی عملی رجحان میں سرگرم عناصر کی کسی طرح کی حمایت کرنے میں تیار ہے۔
بلوچ قوم کی حالت و کیفیت کی اگر میں عکاسی کروں تو اس قوم کی مثال اس اپاہج کی سی ہے جو خود، اپنے آپ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہے۔ جیسے وہ ایک بیمار ڈولی (stretcher) پہ بیٹھا ہوا اس کو ہر چیز دینا اور ہر جگہ لے جانا کسی دوسرے کے ذریعے ہے۔ اگر وہ کچھ بھی اپنے مرضی سے لینا چاہے یا کہیں جانا چاہے تو اس کے اپنے بس میں نہیں ہوتا، جب تک کوئی دوسرا فرد اسے اپنے بساط اور قوت سے اور اپنے مرضی سے حرکت نہ دے یا کوئی چیز میسر نہ کرے۔ اسی طرح، ان بلوچوں کی مثال جو ہمیشہ بیان بازی، لفظی مذمت، لفظی ہمدردی اور روڈوں پر، گلیوں میں، پریس کلبوں کے سامنے، سوشل میڈیا میں اظہار یکجہتی اور ریلیز و احتجاجی مظاہروں جیسے کئی اور لاحاصل افعال و سرگرمیوں کے مرتکب نظر آتے رہتے ہیں اس اپاہج کی حالت جیسی ہے جو ضرورت کے وقت اس کو حرکت دینے والے یا مطالبات پورے کرنے والے فرد کی عدم موجودگی یا عدم مرضی میں وہ اپاہج انتہائی بےبس، لاچار اور مظلوم ہوتا ہے۔
اگر آپ فرض کریں کہ وہ فرد جو اس اپاہج کی خدمت میں ہے اگر ظالم ہو، بےرحم ہو، استعمار ہو, استحصال کرنے والا ہو، بےایمان ہو تو وہ اس اپاہج کے مطالبات اس کے مرضی و مطابق پورا کر سکتا ہے؟ مثلا، اگر کوئی یرغمالی قیدی ہے، تو وہ اگر کچھ بھی چاہے یا اپنی مرضی سے کرنا چاہے تو اسے یرغمال کرنے والا اس کی مطالبات مانے گا؟ جی بالکل نہیں۔ چنانچہ، بلوچ قوم کی حالت و کیفیت یا اس کی مثال اس اپاہج کی حالت جیسی ہے جس کا خدمت گار اگر ایماندار، رحیم اور عادل ہوتا تو بھی ٹھیک لیکن بدقسمتی سے وہ ایک ظالم، بےرحم، بےایمان، استعمار و استحصال کرنے والا ہے، یا اس یرغمالی قیدی جیسی ہے جس کے ساتھ یرغمال کرنے والے کی کیسے سلوک ہوتی ہیں یہ ہر کوئی خوب جانتا ہے۔ لہذا، ایسا نہیں ہے کہ بلوچ قوم اپاہج کے مرض سے یا یرغمالی حالت سے نجات حاصل نہیں کرسکتا۔ اس کےلئے جیسے بھی نظام و حالات ہیں ان سے چھٹکارا و نجات حاصل کرنے کیلئے کئی راستے و ذرائع ہیں جو عملی صورت میں ممکن ہیں، بشرطیکہ بلوچ قوم عملی صورت میں تیار ہو۔ کسی دوسرے پر انحصار کرنے سے بہتر ہے کہ بلوچ قوم ہر چیز اپنی مرضی، اپنی آذادی، اپنی بساط و قوت سے کرے۔
بلوچ قوم کے اوپر مسلط حالات و نظام کے بارے میں سینکڑوں کتابیں، تحریر و آرٹیکلز اور دوسرے مواد و ذرائع ہیں جن سے بلوچ لوگوں نے آگاہی، شعور اور علم حاصل کیے ہونگے، اور یقینا اکثریت باخبر ہے کہ ہم پر کیا صورتحال چل رہی ہے۔ چنانچہ، اس بارے میں چونکہ ضرورت نہیں تو میں تفصیلی رپورٹ و وضاحت نہیں دینا چاہونگا، بلکہ میرے اپنے کئی دوسرے آرٹیکلز ہیں اس بارے میں لیکن یقینا بلوچ اکثریت پہلے سے باخبر اور باشعور ہے سامراج و استعمار پاکستان کی طرف سے ہم (بلوچ قوم) پر مسلط کردہ حالات و نظام سے۔
لہذا، اگر بلوچ قوم چاہتا ہے کہ وہ اس اپاہج کے مرض یا یرغمالی حالت سے نجات پائے تو ہمیں متفقہ طور پر، اتحاد ہوکر عملی صورت و انداز اختیار کریں۔ استعماری عناصر و قوتوں اور نظام و حالات سے نجات پانے یا آذادی حاصل کرنے کیلئے کئی برسوں سے جاری پلیٹ فارمز یا راستے و طریقے پر عملی برسرپیکار اور سرگرم رہیں۔ راستہ بلوچ قوم کےلئے صاف ہے۔ ان کو کوئی حکمت عملی و منصوبہ بنانے کی ضرورت بھی نہیں، منصوبے اور حکمت عملی پہلے سے ہی تیار ہیں لیکن ان منصوبوں اور حکمت عملیوں کو انجام دینے کیلئے قوم تیار نہیں۔ قوم نے صرف خود کو سوشل میڈیا میں فوٹوز اور ویڈیوز اپلوڈ کرنے یا شئیر لائک اور کومنٹ کرنے اور مذکورہ بالا جیسے پرامن احتجاج اور لفظی افعال میں سرگرم ہونے تک محدود کیا ہے جو ایک نظریاتی رجحان و فکر کے مترادف ہے جس سے نہ اب تک بلوچ قوم کے مسئلے کا حل نکلا ہے اور تاریخ و استدلال گواہ ہیں کہ نہ اس سے ممکن تھا اور نہ ہے۔ قومی مقصد کا تقاضا ہی عملی صورت میں سرگرم و فعال ہونا ہے۔ قومی مقصد کے حصول کیلئے عملی ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ مقصد کی تکمیل و حصول عملی صورت و رجحان اپنانے سے ممکن ہے۔
لہذا، بلوچ قوم اب خود کو نظریاتی یا مذکورہ بالا جیسے افعال و رجحان میں سرگرم ہونے تک محدود نہ کریں بلکہ جتنا جلدی ہوسکے عملی صورت و انداز عملی محنت عملی کوشش و جدوجہد اپنا کر اپنی توانائیاں، اپنا وقت اور بساط قومی مقصد کے حصول کیلئے دے دیں تاکہ مقصد کی حصول جس سے بلوچ قوم کی بقاء، خوشحالی، تاریخ کی تحفظ، قومی حقوق کے تحفظ، امن اور انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ممکن ہے، جتنی جلدی ہوسکے ہو۔ بلوچ قوم یہ نہ سوچے کہ ‘پتا نہیں ہمارے دور میں مقصد کی حصول ہوسکتی ہے کہ نہیں’، کیونکہ یہ انتہائی نابالغ خودغرض اور فرسودہ سوچ و فکر ہوگی۔ ضروری نہیں کہ ہم انفرادی سوچ رکھ کر صرف اپنے بارے میں یا اپنے ذاتی خواہشات و مفادات کے بارے میں سوچیں۔ اگر ہم اس طرح سوچیں تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں لعنت بھیجیں گے، طنز دیں گے، گلہ و شکوہ کریں گے کہ ‘ہمارے آباؤ اجداد نے استعماری و سامراجی نظام، حالات، رجحانات اور مسائل و مشکلات کے تسلسل کو اپنے ذاتی و انفرادی خواہشات اور مفادات کی خاطر برداشت کرتے ہوئے خود کو قربان کرنے کیلئے محصور رہے، اور آج ہمیں وہی صورتحال سہنا پڑ رہا ہے۔’ اسلیئے ہمیں اپنی انفرادی و خودغرض فکر و رجحان اور فرسودہ سوچ و ذہنیت کو ختم کر کے اجتماعی سوچ و فکر اور ذہنیت پیدا کر کے اپنے بارے میں نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے بارے میں، اپنے آنے والے نسلوں کیلئے سوچیں اور اپنے قومی مقصد کو عملی راستے و طریقے کا انتخاب کر کے حاصل کریں۔ جتنی زیادہ پیمانے پر اور مظبوط ہماری عملی کوشش و جدوجہد ہوگی اتنی ہی جلدی ہمارے قومی مقصد کا حصول ہوگا۔ اس کےلئے یقینا عمل یا عملی صورت اپنانا ضروری ہے۔
جیسے کہ میں پہلے بھی کئی بار اس بات پہ زور دے چکا ہوں کہ ہر چیز کیلئے عمل ضروری ہوتا ہے۔ کسی چیز کے تخلیق کیلئے، کسی چیز یا مقصد کو حاصل کرنے کیلئے، کسی چیز کو حرکت میں لانے کیلئے ان سب کےلئے انسان کا عملی رجحان یا انداز و صورت ضروری ہوتا ہے۔ صرف سوچنے یا نظریہ پیدا کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بلکہ عمل کے بغیر کسی بھی دوسری فکر یا یقین سے بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔ مثلا، اگر آپ کسی گلاس میں پانی ڈال کر اپنے سامنے رکھ کر زندگی بھر دعا کرتے رہیں کہ ‘اے خدا! ایسا کر کہ گلاس کا پانی اپنے آپ میرے منہ کے پاس آئے اور پانی خود میرے منہ میں اتر جائیں’، تو ویسا یقینا کبھی نہیں ہوگا جب تک آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے گلاس کا پانی نہیں اٹھا کر پیا ہے، کیونکہ خدا نے بھی انسان کو عقل عطاء کرکے کسی مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اس کے متعلق کسی ذریعے کو انسان کا اپنے عقل کی بنیاد پر اپنانا خدا نے اپنا اصول بنایا ہے۔ جیسے کہ کسی نے خوب کہا ہے کہ "اگر مومن اور کافر سمندر میں اتر جائیں تو صرف وہی بچے گا جسے تیرنا آتا ہوگا، خدا جاہلوں کی طرفداری نہیں کرتا۔”
مذکورہ قول یا مثال سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ انسان کیلئے کسی بھی چیز کو حاصل کرنے، تخلیق کرنے، حرکت میں لانے یا کسی مقصد کو پورا کرنے کیلئے عمل کرنا ہی ضروری ہوتا ہے جو کہ خدا کا بھی یہی دستور ہے۔ چنانچہ، اگر بلوچ قوم سامراج پاکستان کی ان پر تسلط یا مسلط کردہ حالات اور نظام کے خلاف عملی طور پر یا عملی رجحان میں برسرپیکار نہیں رہتا تو اس کی مثال اس پانی کی گلاس کی کہانی جیسی بھی ہے جو دعا کرتا یا سوچتا رہتا ہے کہ پانی کا گلاس خود اٹھ کے منہ پہ آئے اور پانی منہ میں ڈل جائیں، یعنی کہ ان پہ جو مذکورہ جیسی صورتحال ہے اس کا اپنے آپ خاتمہ ہو یا اپنے آپ تبدیلی آئے۔ جبکہ بغیر عمل کے کسی بھی دوسری فکر طریقہ و ذریعہ سے یہ ممکن نہیں مندرجہ بالا تمام مثال اور نقطہ نظریے کے تناظر میں۔ لہذا، بلوچ قوم خود کو درپیش تمام حالات و صورتحال کو مدنظر رکھ کر ان کے مستقل خاتمے یا تبدیلی کےلئے اصل راستے یا اپنے اصل مرض کے علاج جو عملی صورت و انداز کا اپنانا ہے یعنی جہد قومی مقصد و آذادی کےلئے مسلح جنگ و مزاحمت ہے، پہ اپنی توجہ مرکوز کرکے برسرپیکار رہیں اور اپنے قومی آذادی اور تاریخ، پہچان اور حقوق کے تحفظ اور اپنے بقاء، معاشرتی سلامتی خوشحالی اور امن کو ممکن بنائیں۔