بلوچستان کے نوشکی کے علاقے کلی مینگل ایریا میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے براہوئی زبان کے معروف شاعر، ادیب پروفیسر غمخوار حیات کو قتل کردیا۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پروفیسر غمخوار حیات کی نعش کو فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کردیا گیا ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسر کو ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ "ڈیتھ اسکواڈز” نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے ۔
واقعے کے بعد علاقے میں افسوس اور سوگ کی فضا قائم ہوگئی جبکہ علمی، ادبی اور سماجی حلقوں نے ان کی وفات کو براہوئی ادب کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں ۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں ریاستی سیکورٹی ادارے اپنی مقامی ملیشیا جنہیں عوامی سطح پر ڈیتھ اسکواڈز کہا جاتا ہے کے ذریعے تعلیم یافتہ، باشعور اور دانشور بلوچ طبقے کو منظم انداز میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، جس کا مقصد بلوچستان میں جاری بلوچ تحریکِ آزادی کو کمزور اور کاؤنٹر کرنا بتایا جاتا ہے۔
ماضی میں اس پالیسی کے تحت کئی نمایاں شخصیات کو قتل کیا گیا، جن میں بلوچستان یونیورسٹی کے معروف استاد پروفیسر صبا دشتیاری اور ادیب و دانشور پروفیسر عبدالرزاق بلوچ شامل ہیں۔ اسی طرح متعدد دیگر اہلِ دانش کو بھی چن کر قتل کیا گیا تاکہ بلوچ سماج کی فکری اور علمی بنیادوں کو ختم کیا جا سکے۔