ایبولا وائرس کی پھیلتی صورتحال مہلک ترین وبا ثابت ہو سکتی ہے، عالمی ادارۂ صحت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا اگر اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ ایبولا کے مہلک ترین پھیلاؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار کی وبا اپنی موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران سامنے آنے والی وبا کو ’پیچھے چھوڑ دے گی‘ جن کے نتیجے میں کم از کم 11 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سال کی ایبولا وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا اور اب تک اس کے کم از کم 4,300 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 2,000 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے بدھ کے روز کہا کہ کوشش ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو روکا جا سکے۔ تاہم عالمی ادارے نے خبردار کیا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وائرس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا بلکہ یہ محض اس کی منتقلی کو قابو میں لائے جانے کی جانب اشارہ ہو گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وبا کا باضابطہ اعلان مئی میں کیا گیا تھا، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز اس سے کم از کم تین ماہ پہلے ہو چکا تھا۔

ایبولا وبا کے مرکز کے قریب واقع شہر بونیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی کا کہنا تھا کہ ’ہم وائرس کا تعاقب کر رہے ہیں، لیکن وائرس ہم سے آگے ہے۔‘

انھوں نے ایسی تحقیق کا حوالہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس فروری میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور ابتدا میں اسے غلطی سے ملیریا یا ٹائفائیڈ قرار دیا گیا تھا۔

2026 کی یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب بنڈیبوجیو قسم کی وجہ سے پھیلی ہے، جو اس سے پہلے 2007 اور 2012 میں وبا کے پھیلاؤ کا سبب بنی تھی۔

وائرس کی اس قسم کے لیے نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم شدہ دوا دستیاب ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article