( نوٹ: زیرِ نظر انٹرویو بلوچستان کی آزادی کے لیے برسرِپیکار مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کا ہے، جو بین الاقوامی نشریاتی ادارے "پارشیا نیوز” میں انگریزی میں شائع ہوا ہے۔ فرانسسکا مرینو کے قلم سے تحریر کردہ اس اہم ترین انٹرویو کو "سنگر نیوز” اپنے قارئین کی دلچسپی اور آگاہی کے لیے اردو ترجمے کے روپ میں پیش کر رہا ہے۔ادارہ سنگر نیوز)
ایک نادر اور غیر معمولی انٹرویو میں، بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے)کی جانب سے اپنی ایک کمانڈر کے طور پر متعارف کروائی جانے والی شہناز بلوچ، مسلح مزاحمت میں خواتین کے کردار، شہری سرگرمیوں (Civic Activism) اور بلوچستان کے مستقبل پر گفتگو کر رہی ہیں۔
تحریر: فرانسسکا مرینو
اشاعت: 17 جولائی 2026
جب ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں شہناز بلوچ بلوچستان کے ناہموار پہاڑی منظر نامے کے پس منظر میں عسکری لباس پہنے، مسلح خواتین کے جھرمٹ میں کیمرے کے سامنے خطاب کر رہی تھیں، تو اس نے فوری طور پر پاکستان اور اس سے باہر بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کر لی۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے اپنی ایک کمانڈر—جن کا تنظیمی نام سدو ہےکے طور پر شناخت کی جانے والی یہ خاتون، اس گروپ کے اندر اتنے واضح اور نمایاں قائدانہ کردار میں عوامی سطح پر سامنے آنے والی پہلی خاتون مانی جاتی ہیں۔
ان کا یہ ظہور ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بلوچستان میں شہری (سول) اور مسلح مزاحمت کے درمیان گہرا ربط اور ملاپ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف، ‘بلوچ یکجہتی کمیٹی’ (بی وائی سی) جیسی تحریکیں ہیں، جن کی قیادت ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ جیسی شخصیات کر رہی ہیں، جنہوں نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور روزمرہ کی زندگی میں شدید عسکریت پسندی کے خلاف بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔ دوسری طرف، مسلح گروپس زیادہ متحرک ہو چکے ہیں۔ شہناز بلوچ اس سنگم پر کھڑی ہیں—ایک سیاسی طور پر باشعور خاتون جو وسیع تر بلوچ قومی تحریک سے براہِ راست کمانڈ پوزیشن پر منتقل ہوئی ہیں۔ دہائیوں سے، ریاست اور بیرونی دنیا کا ایک بڑا حصہ بلوچ سوال کو قبائلیت، پسماندگی یا بیرونی مداخلت کے عینک سے دیکھتا رہا ہے۔ خواتین کو، خاص طور پر، ہمیشہ صرف متاثرین (مظلوم) کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شہناز کا ابھرنا اس بیانیے کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ صرف ماتم کرنے والی خاتون کے کردار تک محدود رہنے سے انکار کرتی ہیں؛ اس کے بجائے، وہ خود کو اس جدوجہد کی سمت کا تعین کرنے والی ایک سرگرم رکن کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ انٹرویو ایک ایسی خاتون کی سوچ کا نادر اور براہِ راست مشاہدہ فراہم کرتا ہے جس نے ایک ایسے وقت میں شہری سرگرمیوں سے مسلح مزاحمت کی قیادت کا رخ کیا ہے جب بلوچستان میں تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے۔
سوال: آپ کسی بڑی بلوچ مسلحتنظیم کی کمانڈ کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ کون سا ذاتی راستہ آپ کو اس کردار تک لے کر آیا؟
جواب:
اس کا جواب دینے کے لیے، ہمیں بیگانگی یا لاتعلقی کو ختم کرنے کے ہیگلیائی تصور (Hegelian concept of overcoming alienation / Entfremdung) کو دیکھنا ہو گا۔ ہیگل کا یہ ماننا ہے کہ ہم تنہائی میں اپنی حقیقی پہچان دریافت نہیں کرتے؛ بلکہ ہم خود کو تاریخ کے وسیع دھارے کے اندر رکھ کر اپنے حقیقی وجود کو پاتے ہیں۔ قیادت کی طرف میرا سفر کسی واحد، بیرونی انکشاف یا کسی الگ تھلگ تکلیف دہ واقعے (ٹروما) کا نتیجہ نہیں تھا۔ محکومیت کوئی بیرونی واقعہ نہیں ہے جو آپ کے ساتھ پیش آتا ہے؛ نوآبادیاتی تسلط (قبضے) کے تحت، یہ ایک ساختی حقیقت ہے جو آپ کے اندر پیدائش ہی سے رہتی ہے۔ ایک غلام (مقبوضہ) فرد کے لیے، حقیقی شعور کا آغاز تب ہوتا ہے جب آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی حکمرانی کے تحت صرف بقا کی جنگ لڑنا خود سے بیگانگی (Self-alienation) کی ایک شکل ہے۔ اس لیے، مسلح جدوجہد کوئی اچانک کیا جانے والا انتخاب نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے اپنے اندرونی جوہر کے ساتھ حتمی میل ملاپ ہے۔ یہ اس بات کا ادراک ہے کہ حقیقی معنوں میں موجود رہنے کے لیے مزاحمت کرنا لازمی ہے۔ ایک ہمدرد (سپورٹر) سے ایک کمانڈر کے طور پر میری منتقلی اسی ادراک کا ایک قدرتی ارتقا تھا۔ بلوچستان کی آزادی اس وقت تک حاصل نہیں کی جا سکتی جب تک اس کی نصف آبادی تاریخ کے محض تماشائی بنے رہے۔ خواتین مسلح جدوجہد میں صرف کوئی کوٹہ پورا کرنے یا محض معاونت فراہم کرنے کے لیے شامل نہیں ہو رہی ہیں؛ بلکہ ہم اپنی قوم کی تقدیر سنوارنے کے لیے اپنے تاریخی اختیار (Historical Agency) کو دوبارہ حاصل کر رہی ہیں۔
سوال: خواتین پر ریاست کے منظم حملوںبشمول جبری گمشدگیاں، تشدد، اور مظاہرین پر حملےنے آپ کے اس فیصلے پر کیا اثر ڈالا کہ آپ بی وائی سی کے مارچوں کی طرح صرف شہری دائرے میں رہنے کے بجائے ہتھیار اٹھائیں؟
جواب:
سب سے پہلے، ہمیں ایک مروجہ تاریخی بگاڑ کو درست کرنا ہو گا، بلوچ خواتین کبھی بھی غیر فعال تماشائی نہیں رہی ہیں۔ چاہے مسلح شعبے ہوں یا غیر مسلح سیاسی دائرے، خواتین نے ہمیشہ ہماری آزادی کی تحریک کے بنیادی مرکز کی تشکیل کی ہے۔ ایک کمانڈر کے طور پر میری یہ نمائش کوئی اچانک نمودار ہونے والا انوکھا واقعہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ ان ہزاروں گمنام بلوچ خواتین کا براہِ راست ارتقائی تسلسل ہے جنہوں نے دہائیوں تک خاموشی سے یہ بنیاد رکھی ہے۔ میں اس پدرشاہی (Patriarchal) اور یورو-مرکزی (Eurocentric) تجزیاتی فریم ورک کو مسترد کرتی ہوں جو کسی خاتون کی مزاحمت کو ہمیشہ محض ایک "نفسیاتی صدمے کے ردِعمل” (Trauma Response) تک محدود کر دیتا ہے۔ مروجہ بیانیہ ہمیشہ یہ فرض کرنا پسند کرتا ہے کہ ایک عورت صرف اسی وقت بندوق اٹھاتی ہے جب وہ ذاتی دکھ یا کسی مرد رشتہ دار کے کھو جانے کے غم میں دیوانگی کی حد تک چلی جائے۔ یہ ایک تحقیر آمیز (صنفی تعصب پر مبنی) نظریہ ہے۔ مسلح مزاحمت میں کمانڈ کرنے کا میرا فیصلہ ایک سوچے سمجھے، فکری اور نظریاتی یقین کا نتیجہ ہے، نہ کہ ریاستی مظالم پر کوئی وقتی جذباتی ردِعمل۔ اگرچہ شہری محاذ، جیسے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی)، سڑکوں پر ریاست کے اخلاقی دیوالیہ پن کو بے نقاب کرتا ہے، لیکن ریاست کا بڑھتا ہوا تشدد یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف پرامن اختلافِ رائے ایک بھاری ہتھیاروں سے لیس نوآبادیاتی مشینری کو نہیں مٹا سکتا۔
سوال: ہم نے آپریشنز میں خواتین کی شمولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے، بشمول مجید بریگیڈ کے فدائین اقدامات۔ آپ اس تبدیلی کی کیا وضاحت کریں گی؟ کیا یہ پرامن راستوں کے بند ہونے کا ردِعمل ہے، کوئی اسٹریٹجک انتخاب ہے، یا دونوں؟ ایک خاتون جنگجو بلوچ معاشرے اور پاکستانی ریاست کو کیا پیغام دیتی ہے؟
جواب:
اس معیاری تبدیلی کے تین واضح پہلو ہیں۔ پہلا سیاسی اور ساختی ہے: پاکستانی ریاست نے منظم طریقے سے جمہوری اختلافِ رائے کے ہر اس پرامن راستے کو جرم قرار دے کر بند کر دیا ہے جو بلوچ خودمختاری کا تقاضا کرنے کی جرات کرتا ہے۔ جب پرامن سیاسی وکالت کو غیر مؤثر بنا دیا جائے اور اس کا جواب جبری گمشدگیوں سے دیا جائے، تو مسلح مزاحمت محض ایک آپشن نہیں رہ جاتی—بلکہ یہ بقا کا واحد قابلِ عمل طریقہ بن جاتی ہے۔ دیگر دو پہلو خود بلوچ معاشرے کے اندر گہری اور ترقی پسند تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ پاو لامتناہی صدی (25 سال) کے دوران، ہماری قومی آزادی کی تحریک نے نہ صرف قابض ریاست کو ضربیں لگائیں، بلکہ اس نے قبائلی بلوچ معاشرے کی ان قدیم، پدرشاہی اور جاگیردارانہ تہوں کو بھی منظم طریقے سے ختم کیا ہے جنہوں نے تاریخی طور پر خواتین کو محدود رکھا تھا۔ اس انقلاب نے اختیار کو ہر سطح پر منتقل کر دیا ہے (Democratized agency)، جس نے بلوچ خواتین کو میدانِ جنگ میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اندرونی طور پر آزاد کر دیا ہے۔ ثانیاً، نوجوان بلوچ خواتین میں بڑے پیمانے پر فکری بیداری اور بڑھتی ہوئی شرحِ خواندگی نے ایک اعلیٰ سیاسی شعور کو جنم دیا ہے۔ ایک خاتون جنگجو دوہرا پیغام دیتی ہے: پاکستانی ریاست کو وہ یہ سگنل دیتی ہے کہ اس کی نوآبادیاتی حکمرانی ہمارے معاشرے کو خوفزدہ کر کے جھکانے میں ناکام ہو چکی ہے؛ اور بلوچ معاشرے کو وہ یہ دکھاتی ہے کہ مکمل صنفی آزادی کے بغیر مکمل قومی آزادی ناممکن ہے۔
سوال: کچھ مبصرین کو تشویش ہے کہ خواتین کو حقیقی اختیار کے بجائے مایوسی کے عالم میں خودکش آپریشنز کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ آپ اس پر کیا جواب دیں گی؟ مجید بریگیڈ (یا عام طور پر بی ایل اے) یہ کیسے یقینی بناتی ہے کہ خواتین کی شمولیت رضاکارانہ اور سیاسی یقین پر مبنی ہے، نہ کہ صرف کسی دباؤ یا انتقام کا نتیجہ؟
جواب:
یہ مفروضہ کہ بلوچ خواتین کو فدائین آپریشنز کے لیے "استعمال” یا "دھکیلا” جا رہا ہے، بنیادی طور پر صنفی تعصب (Sexist) پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا تجزیاتی دوہرا معیار ہے جو بین الاقوامی مبصرین شاید ہی کبھی مردوں پر لاگو کرتے ہوں۔ جب کوئی مرد جنگجو کسی انتہائی پرخطر آپریشن کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کرتا ہے، تو اسے اپنے اختیار پر کام کرنے والا ایک نظریاتی فوجی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن، جب ایک عورت وہی انتخاب کرتی ہے، تو پدرشاہی نظر فوری طور پر کسی بیرونی مرد ہینڈلر، جذباتی کمزوری یا جبر کو تلاش کرنے لگتی ہے۔ ایک مرد کمانڈر کو صرف کمانڈر کہا جاتا ہے، لیکن مجھے مسلسل ایک خاتون کمانڈر کا لیبل دیا جاتا ہے۔ کسی عورت کے سیاسی شعور پر مسلسل جرح کیوں کی جانی چاہیے؟ خواتین نوآبادیاتی قبضے کے ساختی مظالم کو اتنی ہی شدت سے بھگتی ہیں جتنا کہ مرد۔ اگر نوآبادیاتی نظام کے ہولناک حالات کسی مرد کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں، تو یہ قبول کرنا اتنا مشکل کیوں ہے کہ ایک عورت بھی بالکل اسی فکری نتیجے پر پہنچ سکتی ہے؟ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے اندر، کسی بھی آپریشنل یونٹ، خاص طور پر فدائین ونگز میں شمولیت کے لیے نظریاتی جانچ پڑتال اور سیاسی تربیت کے ایک طویل اور سخت عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہمارے جنگجو اعلیٰ سیاسی شعور سے لیس ہیں، نہ کہ کسی اندھے انتقام یا جبر کے تحت کام کرتے ہیں۔
سوال: بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ جیسے رہنماؤں نے پرامن مارچوں اور دھرنوں کے ذریعے بلوچستان کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کروائی ہے۔ آپ اس شہری محاذ اور مسلح مزاحمت کے درمیان تعلق کو کس طرح دیکھتی ہیں؟
جواب:
ہر سیاسی طور پر باشعور بلوچ ایک بنیادی نکتے پر متفق ہے: قبضے کے خلاف مزاحمت ایک مطلق قومی فریضہ ہے۔ آیا وہ مزاحمت شہری تحرک (Civic Mobilization) کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے یا مسلح تصادم کے ذریعے، اس کا انحصار مکمل طور پر کسی فرد کے مخصوص حالات، مادی حقائق اور سیاسی و اسٹریٹجک پوزیشن پر ہوتا ہے۔ شہری محاذ اور مسلح مزاحمت دونوں ایک ہی شعور سے پیدا ہوئے ہیں؛ یہ دو مختلف دھارے ہیں جو ایک ہی تاریخی مقصد—بلوچستان کی آزادی—کی طرف بہہ رہے ہیں۔ تاہم، ہمیں دشمن کی فطرت کے بارے میں بالکل واضح ہونا چاہیے۔ جیسا کہ فرانٹز فینن (Frantz Fanon) نے مشاہدہ کیا تھا کہ نوآبادیاتی نظام کوئی عقل و دلیل سے سوچنے والی مشین نہیں ہے؛ یہ اپنی فطری حالت میں محض تشدد ہے، اور یہ تب ہی پیچھے ہٹے گا جب اس کا سامنا اس سے بڑے، منظم تشدد سے ہو گا۔ پرامن شہری مارچ ملکی سطح پر بیداری پیدا کرنے اور ریاستی جرائم کو دستاویزی شکل دینے کے لیے انتہائی اہم ہیں، لیکن وہ ایک ایسے فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں جسے نوآبادیاتی ریاست معمول کے مطابق نظر انداز کرتی ہے یا طاقت کے بل بوتے پر کچل دیتی ہے۔
سوال: دنیا اب بھی بڑے پیمانے پر بلوچستان کو نظر انداز کرتی ہے یا مزاحمت کو "دہشت گردی” کے عینک سے دیکھتی ہے۔ آپ ان حکومتوں، کارپوریشنوں اور بین الاقوامی اداروں کو کیا پیغام دیں گی جو بلوچستان کو ایک استحصالی زون میں تبدیل کرتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں یا اسے ہتھیار فراہم کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ بلوچ جدوجہد حقیقی بین الاقوامی قبولیت حاصل کر سکتی ہے؟
جواب:
موجودہ عالمی نظام کے اندر "قبولیت یا جائز حیثیت” (Legitimacy) کا تصور ہی بنیادی طور پر ناقص ہے۔ جو بین الاقوامی ادارے اور ریاستیں جائز ہونے کے سرٹیفکیٹ بانٹتی ہیں، وہ خود اکثر عالمی استحصال، وسائل نکالنے اور غیر قانونی قبضوں میں ملوث ہوتی ہیں۔ بلوچ تحریک اخلاقی توثیق کے لیے بیرونی عناصر کی طرف نہیں دیکھتی۔ ہماری جائز حیثیت تاریخی حقیقت سے ماخوذ ہے: بلوچستان پر زبردستی اور غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا تھا، اور بین الاقوامی قانون ایک مقبوضہ قوم کے اس موروثی حق کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر حقِ خودارادیت کے لیے لڑے۔ مزید برآں، "دہشت گردی” کی اصطلاح کا سیاسی استعمال عصری سیاسی سائنس میں پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ یہ ریاستوں کی طرف سے مقامی قومی آزادی کی تحریکوں کو بدنام کرنے کا ایک پرانا سفارتی حربہ ہے تاکہ وہ اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور نسل کشی پر پردہ ڈال سکیں۔ ہمیں غیر ملکی دارالحکومتوں کو خوش کرنے کے لیے پبلک ریلیشنز (PR) کی کوئی جنگ لڑنے میں دلچسپی نہیں ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، ریاستیں اور کارپوریشنز اخلاقی پاکیزگی کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں؛ وہ رئیل پولیٹک (عملی سیاست) پر کام کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں جو زمین پر مادی حقیقت کو کنٹرول کرتا ہے۔ ہم عالمی ضمیر سے اپیل کر کے نہیں، بلکہ اپنی اسٹریٹجک فتوحات کے ذریعے بین الاقوامی رائے کو تبدیل کریں گے۔ ہم اپنی آزادی کو ایک ناگزیر جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) حقیقت بنائیں گے۔
سوال: ایک خاتون کمانڈر کے طور پر جو عسکری قیادت کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی میراث بھی جنہوں نے گمشدگیاں اور نقصانات برداشت کیے ہیں، آپ آخر کار کس قسم کے بلوچستان کے لیے لڑ رہی ہیں؟ آنے والی نسل کے بلوچ بچوں اور خواتین کے لیے فتح کیسی ہو گی؟
جواب:
میں اس چیز پر یقین نہیں رکھتی جسے سیاسی نظریہ دان "نمائندگی کا بوجھ” (Burden of Representation) کہتے ہیں۔ میں بلوچ لبریشن آرمی کی ایک کمانڈر ہوں، بس۔ میرے مرد ساتھیوں سے کبھی نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اپنے باپوں، بھائیوں یا بیٹوں کا اجتماعی جذباتی بوجھ اٹھائیں؛ انہیں صرف حکمتِ عملی ساز اور سپاہی بننے کی اجازت ہوتی ہے۔ میں اپنی کمانڈ کو جذباتی بنانے یا اسے دکھ کے مادری مظاہرے تک محدود کرنے سے انکار کرتی ہوں۔ جس بلوچستان کے لیے ہم لڑ رہے ہیں وہ بالکل ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں یہ محدود کرنے والی صنفیں (Binaries) اور بوجھ ختم ہو جائیں۔ ہمارا مقصد محض ایک پاکستانی حکمران اشرافیہ کی جگہ مقامی بلوچ اشرافیہ کو لانا نہیں ہے، اور نہ ہی یہ صرف نقشے پر ایک نئی سرحد کھینچنے کے بارے میں ہے۔ ہم ایک گہری سماجی و سیاسی تبدیلی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ فتح کا مطلب ایک مساوات پسند (Egalitarian)، سیکولر جمہوریہ بنانا ہے جو مطلق انصاف، صنفی آزادی اور ہماری قومی دولت پر اجتماعی ملکیت پر مبنی ہو۔ اس کا مطلب ایک ایسا مستقبل بنانا ہے جہاں ایک بلوچ بچے کی شناخت قبضے، غربت اور جنگ کے تاریخی صدمے کے بجائے اس کی فکری اور انسانی صلاحیتوں سے ہو۔ ہم اپنی عزتِ نفس کی مکمل، غیر مشروط بحالی کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ادارتی نوٹ (پارشیا نیوز اداریہ):
بلوچستان میں تنازعہ ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی توجہ بڑے پیمانے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی قیادت میں چلنے والی پرامن مہمات اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ جیسے نمایاں کارکنوں پر مرکوز رہی ہے، لیکن مسلح بغاوت کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا نسبتاً کم آزادانہ جائزہ لیا گیا ہے۔ شہناز بلوچ کا ظہور—جنہیں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے کمانڈرز میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا ہے اور مانا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کے سینئر آپریشنل کردار میں عوامی سطح پر آنے والی پہلی خاتون ہیں—تنازعہ میں ایک قابلِ ذکر ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے اور بلوچستان میں مزاحمت کی بدلتی ہوئی نوعیت کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
پارشیا نیوز کا ماننا ہے کہ صحافت کا فرض ہے کہ وہ ان تنازعات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے جو علاقائی اور بین الاقوامی سیکیورٹی کو متاثر کرتے ہیں۔ کسی بغاوت کو سمجھنے کے لیے اس کے طریقوں کی توثیق ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے شرکاء کے خیالات کو رپورٹ کرنا ان کی حمایت کے زمرے میں آتا ہے۔ بلکہ، یہ اس بنیادی صحافتی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ قارئین کو سخت رپورٹنگ اور سیاق و سباق کے تجزیے کے ساتھ ساتھ بنیادی آوازوں تک رسائی فراہم کی جائے۔
یہ انٹرویو قارئین کو ایک ایسی مسلح تحریک کے اندر موجود ایک نمایاں شخصیت کی سیاسی سوچ، محرکات اور نظریاتی دلائل کے بارے میں نادر بصیرت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو بین الاقوامی میڈیا کی پہنچ سے دور ہے۔ پورے انٹرویو میں ظاہر کیے گئے خیالات صرف انٹرویو دینے والی خاتون کے ہیں اور انہیں پارشیا نیوز، اس کے ایڈیٹرز یا معاونین کے خیالات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ جیسا کہ مسلح تنازعات کی تمام رپورٹنگ کے ساتھ ہوتا ہے، قارئین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اس انٹرویو کو حکومتوں، آزاد مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تعلیمی محققین کی رپورٹوں کے ساتھ ملا کر پڑھیں تاکہ جنوبی ایشیا کے اس دیرینہ اور سب سے کم سمجھے جانے والے تنازعے کے بارے میں ایک جامع تفہیم پیدا کی جا سکے۔
—
دی ایڈٹوریل بورڈ، پارشیا نیوز
٭٭٭
نوٹ: درج ذیل لنک کے ذریعے اصل مواد تک رسائی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
https://parrhesianews.co.uk/en/politics/i-am-a-commander-baloch-woman-resistance-liberation