ایران کا قطر، اردن اور عمان میں امریکی فوجی اڈوں اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز بند

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کی نئی لہر کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں، طیارہ بردار جہازوں کے لاجسٹک مراکز اور بحری تنصیبات پر شدید جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی اگلے حکم تک ہر قسم کی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی اور سرکاری میڈیا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے کی کئی امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فورسز نے قطر میں واقع امریکہ کے اہم ترین ‘العدید ایئر بیس’ کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا。 دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں امریکی لڑاکا طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کے مرکز کے ساتھ ساتھ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں واقع امریکی ایئر بیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ایم کیو (MQ) ڈرون ہینگر کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شدید اور اچانک کارروائی میں عمان کی بندرگاہ دقم میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے لاجسٹک معاونت کے مراکز اور ایندھن فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کا دفاعی نظام ایران سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کر رہا ہے، تاہم نقصانات کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان کی مسلح افواج نے قطر پر کیے گئے میزائل حملے کو فضا میں ہی روک دیا ہے۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے قطری دارالحکومت دوحہ کے آسمان پر دھماکوں کی آوازیں سنیں اور میزائل انٹرسیپٹر دیکھے۔ صورتحال کے پیشِ نظر دوحہ اور بحرین میں سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
⚓
یہ تمام کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے رواں ہفتے تیسری بار ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں قبرص کے پرچم بردار ایک تجارتی کنٹینر جہاز ‘جے ایف ایس گلیکسی’ کو نشانہ بنانے کے ردِعمل میں کیے گئے۔

امریکی و برطانوی میری ٹائم ذرائع کے مطابق، عمان کے ساحل سے 16 کلومیٹر دور اس جہاز کے پچھلے حصے پر میزائل لگنے سے انجن روم شدید متاثر ہوا اور آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد عملہ لائف بوٹ کے ذریعے جہاز چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ بعد ازاں برطانوی ادارے ‘یو کے ایم ٹی او’ نے تصدیق کی کہ مقامی حکام نے عملے کو بحفاظت بچا لیا ہے، جبکہ عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز اپنی شناخت اور ٹریکنگ سسٹم بند کر کے غیر قانونی و غیر منظور شدہ راستے سے گزر رہا تھا، جس پر انتباہی فائرنگ کے بعد اسے روک دیا گیا۔ ایران نے واضح کیا کہ اگلے اعلان تک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی امریکی جارحیت کا اب شدت سے جواب دیتے ہوئے نئے اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اس بیان پر کہ "ایران نے غلط انتخاب کیا اور اسے قیمت چکانی ہو گی”، ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردِعمل دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی شق نمبر 5 کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: "یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا۔ ہم نے آپ سے کہا تھا، یا اپنے وعدے پورے کریں یا وعدہ خلافی کی قیمت ادا کریں۔ حقیقت اب آپ کے سامنے ہے”۔ اس شق کے تحت ایران کو دستخط کے بعد صرف 60 دن تک خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے انتظامات مفت سنبھالنے تھے، جس کی پاسداری نہ کرنے پر ایران نے اب یہ سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article