کوئٹہ / سنگر نیوز مانیٹرنگ ڈیسک
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے شعبہ انسانی حقوق نے بلوچستان میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد، بالخصوص بلوچ خواتین کی میڈیا کے سامنے پیشی اور جبری اعترافی بیانات پر ایک تفصیلی تھیمیٹک رپورٹ جاری کی ہے۔ "اسٹیجڈ پریس کانفرنسز اور کنفیشنل نیریٹوز” کے عنوان سے مئی 2026 میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے بلوچ خواتین اور بی وائی سی کی پرامن سیاسی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑ کر ریاستی جبر کو جواز فراہم کرنے کے لیے من گھڑت کہانیاں اور ڈرامائی پریس کانفرنسز کا سہارا لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی قانون (انٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 کی دفعہ 21H) اور بین الاقوامی قوانین (ICCPR اور CAT) رضاکارانہ اور بغیر کسی دباؤ کے اعترافِ جرم کی شرط عائد کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں زیرِ حراست افراد کو طویل عرصے تک لاپتہ رکھنے کے بعد دباؤ اور تشدد کے تحت میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جبری اعترافی بیانات اور میڈیا ٹرائلز کے اہم کیسز
رپورٹ میں سال 2023 سے مئی 2026 کے درمیان سامنے آنے والے چند اہم ترین کیسز کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں:
ماہل بلوچ (کوئٹہ): فروری 2023 میں سی ٹی ڈی نے رات کے چھاپے میں ماہل بلوچ کو خاندان سمیت حراست میں لیا اور ان پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا۔ اپریل 2023 میں ایک صحافی کے ذریعے ان کا ان کسٹڈی انٹرویو نشر کیا گیا جسے خاندان نے جبری قرار دیا۔ مئی 2023 میں ضمانت کے بعد، تقریباً تین سال تک کیس چلنے کے بعد 15 جنوری 2026 کو عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر ماہل بلوچ کو بے گناہ قرار دے کر کیس خارج کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ کیس بلوچ خواتین کو ہراساں کرنے کا پہلا باقاعدہ ریاستی حربہ تھا۔
طلعت عزیز (پنجاب یونیورسٹی): پولیٹیکل سائنس کے اس طالب علم کو نومبر 2024 میں وزراء کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا، جہاں ان سے یہ بیان دلوایا گیا کہ انہیں بی وائی سی نے عسکریت پسندی کی طرف راغب کیا۔
ڈاکٹر محمد عثمان قاضی (اسسٹنٹ پروفیسر): بیوٹمز (BUITEMS) یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کو 12 اگست 2025 کو بھائی سمیت جبری لاپتہ کیا گیا۔ 7 روز بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی موجودگی میں ایک ویڈیو پیش کی گئی جس میں انہوں نے خودکش حملوں کی سہولت کاری کا اعتراف کیا۔ گزشتہ 8 ماہ سے اینٹی ٹیررازم کورٹ (ATC) میں ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔
فرزانہ زہری (خضدار): دسمبر 2025 میں ہسپتال سے واپسی پر لاپتہ کی گئیں۔ 17 مارچ 2026 کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی پریس کانفرنس میں انہیں خودکش بمبار کے طور پر پیش کیا گیا اور بی وائی سی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کو بدنام کرنے کے لیے اس کیس کا استعمال کیا گیا۔
رحیمہ بلوچ (دلبندین): دسمبر 2025 میں بھائی سمیت اغوا ہوئیں۔ خاندان کے ہائی وے بلاک کرنے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔ 5 ماہ بعد 18 اپریل 2026 کو ہوم سکریٹری حمزہ شفقات اور سی ٹی ڈی حکام نے پریس کانفرنس میں انہیں پیش کیا، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
خدیجہ بلوچ (کیچ): اپریل 2026 میں بی ایم سی نرسنگ ہاسٹل کوئٹہ سے لاپتہ ہوئیں۔ نرسنگ طلبہ کے 25 روزہ دھرنے کے بعد والد کو ملاقات کی اجازت ملی۔ والد کے مطابق، خدیجہ پر سی ٹی ڈی کی جانب سے میڈیا کے سامنے بی وائی سی سے وابستگی اور دہشت گردی کا جھوٹا اعتراف کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔
حیر النساء بلوچ (کم عمر بچی): 17 سالہ حیر النساء کو دسمبر 2025 میں حب چوکی سے حاملہ خاتون ہانی دلواش کے ہمراہ لاپتہ کیا گیا۔ 11 مئی 2026 کو پہلے سوشل میڈیا پر ان کی ایک اعترافی ویڈیو وائرل کی گئی اور پھر وزیرِ اعلیٰ کی پریس کانفرنس میں پیش کر کے دعویٰ کیا گیا کہ انہیں سفر کے دوران گرفتار کیا گیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر کیچ پہلے ہی ان کی گھر سے جبری گمشدگی کا اعتراف کر چکے تھے۔
خاندانوں پر دباؤ اور "اجتماعی سزا” کا طریقہ کار
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے بی وائی سی کے کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جھکانے کے لیے ان کے پیاروں کو اغوا کرتے ہیں اور پھر ان کی بحفاظت رہائی کے بدلے پہلے سے لکھے گئے اسکرپٹ (Pre-written Scripts) کے تحت پریس کانفرنسز کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے:
فوزیہ بلوچ (کراچی): بی وائی سی کی سرگرم کارکن کے بھائی داد شاہ کو اپریل 2026 میں دوسری بار اغوا کیا گیا۔ فوزیہ اور ان کی والدہ نے جب پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تو انہیں بھی چند گھنٹوں کے لیے لاپتہ کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ فوزیہ نے ویڈیو کانفرنس میں بتایا کہ ان پر بی وائی سی چھوڑنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ادیبہ ظہیر (پنجگور): ان کے والد 2015 سے لاپتہ ہیں جبکہ بھائی زیشان کو جون میں لاپتہ کرنے کے بعد تشدد زدہ لاش پھینک دی گئی۔ حال ہی میں ان کے شوہر توحید بلوچ کو اغوا کیا گیا، جس کے بعد ادیبہ کو پنجگور پریس کلب میں لا کر زبردستی پاکستان سے وفاداری اور بی وائی سی سے لاتعلقی کا اسکرپٹ پڑھوایا گیا۔
خدیجہ غیاث: پنجگور کے ایک اور لاپتہ شخص کی بیٹی، انہیں بھی پنجگور پریس کلب میں لا کر زبردستی دباؤ کے تحت بی وائی سی کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا گیا۔
تھیمیٹک تجزیہ اور معاشرتی اثرات
رپورٹ کے تجزیاتی حصے میں چند اہم نکات اٹھائے گئے ہیں:
خواتین کو نشانہ بنانا: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ اور ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی قیادت میں ابھرنے والی عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے خواتین کو دہشت گردی کے جھوٹے کیسز میں پھنسایا جا رہا ہے۔
قانونی خلا اور عدالتی خاموشی: عدالتیں اور ججز انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ماورائے آئین اقدامات پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے فیئر ٹرائل (آرٹیکل 10-A) کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
ثقافتی اور نفسیاتی اقدار پر حملہ: بلوچ معاشرے میں خواتین کی میڈیا پر زبردستی پیشی کو عزت و ناموس پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جس سے مقامی آبادی میں ریاست کے خلاف شدید نفرت اور عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔
عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے اپیل
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے رپورٹ کے آخر میں بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین کے خلاف اس منظم ریاستی پروپیگنڈے اور میڈیا ٹرائلز کے خلاف آواز اٹھائیں۔ بی وائی سی نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ (HRW) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، حفاظتی تحویل (Preventive Detention) کے نام پر دیے جانے والے عقوبتی تشدد اور زبردستی لیے جانے والے اعترافی بیانات کا فوری نوٹس لیں اور عالمی سطح پر حقائق کو بے نقاب کریں۔
***