ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ فروری میں ایران میں ایک سکول اور کھیلوں کے ایک مقام پر ہونے والے دو فوجی حملوں کے پیچھے امریکہ تھا، اور یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے مشن کی یہ رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی جائے گی۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ان کے پاس یہ یقین کرنے کے لیے معقول بنیاد ہے کہ امریکی افواج ایران کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری سکول پر حملے کی ذمہ دار تھیں، جہاں ایرانی حکام کے مطابق 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی انسانی قانون شہری تنصیبات کو حملوں کا ہدف بنانے سے منع کرتا ہے اور شہری مقامات اور فوجی اہداف میں امتیاز برتنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میناب کے پرائمری سکول کو ہدف بناتے وقت امریکہ اس بات کی تصدیق کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا کہ آیا وہ واقعی ایک فوجی ہدف تھا۔
مزید برآں، مشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سکول کی عمارت کو ہدف بناتے وقت امریکہ نے دانستہ طور پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جو بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے سکول سے متعلق معلومات کو اپنے اہداف کے ڈیٹا بیس میں اپ ڈیٹ نہ کرنا، حالانکہ سکول پاسداران انقلاب کے بحری کمپلیکس کے قریب واقع تھا، اور یہ تصدیق نہ کرنا کہ عمارت کوئی فوجی ہدف تھی، محض غفلت سے بڑھ کر تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا: ’امریکہ کو اس خطرے کا خاطر خواہ اندازہ تھا کہ ایک سویلین مقام ہدف بن سکتا ہے، اس کے باوجود سکول کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔‘
جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فروری میں ایران کے لڑکیوں کے ایک سکول پر ’جان بوجھ کر‘ حملہ نہیں کیا گیا تھا۔
ماہرین نے لامرد میں واقع ایک سپورٹس سینٹر پر حملے کے بارے میں بھی اسی نوعیت کا نتیجہ اخذ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک سکول کو نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حملہ بھی اندھا دھند تھا اور اس لیے جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے مذکورہ دن لامرد شہر میں کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔