طالبان نے افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی مراکز قائم ہونے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انھیں طالبان حکومت کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 13 ستمبر کو نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے متعلق رپورٹس طالبان حکومت کے خلاف منفی مہم کا حصہ ہیں۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے دعوے بعض متعصب حلقوں اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے سامنے آ سکتے ہیں، جو کشیدگی بڑھانے اور خطے میں عدم تحفظ کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’القاعدہ سمیت کوئی بھی غیر ملکی گروپ افغانستان میں موجود نہیں اور افغانستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘
دوسری جانب 12 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور دیگر مغربی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروہوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’القاعدہ نے افغانستان میں دوبارہ اپنے تربیتی مراکز قائم کر لیے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور اس سے منسلک گروہوں نے گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان میں کم از کم آٹھ تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے اور 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا سے القاعدہ نے فائدہ اٹھایا۔