عراق میں کرد رہنما اغوا کے بعد قتل، ایران کو ذمہ دار ٹھہرادیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے ہفتے کے روز بتایا کہ عراقی شہراربیل میں جماعت کے ایک سینیر رہ نما موسیٰ بابا خانی کو مبینہ طور پراغوا کے بعد قتل کردیا گیا ہے۔ کردستان 24 ٹی وی کے مطابق کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے رہ نما کے قتل کا الزام ایران پر عاید کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کے صوبہ کردستان کے دارالحکومت اربیل میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی نے جمعرات کو پیش آنے والے واقعے کی انکوائری کے لیے فوری تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔

پارٹی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ باباخانی کو ایران سے وابستہ دو افراد نے گذشتہ جمعرات کو اغوا کیا تھا جس کے بعد ان کی لاش عراق کے کردستان کے دارالحکومت اربیل کے ایک ہوٹل سے ملی ہے اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔

’کے ڈی پی‘ نے ایرانی سکیورٹی فورسز کو باباخانی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات دکھائی دیتے ہیں۔

مقتول کی عمر 39 سال ہے۔ ان کا تعلق ایران کے شہر کرمان شاہ سے اور وہ بیس سال سے 20 سال سے ڈیموکریٹک پارٹی کے متحرک رکن رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب ملیشیا سے وابستہ میڈیا نے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے موسیٰ باب خانی کو اربیل میں کرد دہشت گرد گروہ کے رہ نماؤں میں سے ایک قرار دیا گیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ بابا خانی کو نامعلوم افراد نے عراق میں قتل کیا ہے۔

دوسری طرف ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایک مسلح گروہ نے اربیل میں اس ہوٹل کے کمرے پر چھاپہ مارا جس میں بابا خانی مقیم تھے۔ حملہ آوروں نیکمرے میں گھس کر بابا خانی کو موت کیگھاٹ اتار دیا۔

Share This Article
Leave a Comment