ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں سے ملاقات میں کہا ہے کہ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کی مکمل تیاری اور جنگی آمادگی ناگزیر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران کو درپیش کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مسلح افواج کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور اس سلسلے میں جغرافیائی حدود کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ کارروائی کرتے ہیں تو ایران ان کے جواب کا وقت، نوعیت اور طریقۂ کار خود طے کرے گا۔
انھوں نے فوج کی دفاعی صلاحیت، انٹیلی جنس نظام اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے اور انھیں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر دفاعی حکمتِ عملی اور اہداف کا مسلسل جائزہ لے کر انھیں بہتر بنانا ضروری ہے۔ ان کے بقول عوامی حمایت ملک کی دفاعی طاقت کا ایک اہم ستون ہے۔
ملاقات کے دوران ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام نے ملکی سلامتی، سرحدی صورتحال اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔