پہلی بلوچ خاتون گلوکارہ بطور ایمبسڈر عالمی سطح پر جلوہ گر

0
346

پہلی بلوچ خاتون گلوکارہ، ایوا بی نامور آڈیوکمپنی اسپاٹی فائی کے ایکول پاکستان کی اکتوبر کی ایمبیسڈر کے طور پر نیویارک کے ٹائمز اسکوائر کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر جلوہ گر ہوئی ہیں۔

ان کا گیت مختصر باتیں اسپاٹی فائی پروگرام کا حصہ بنا ہے اور ایکول کی مقامی اور عالمی پلے لسٹس میں شامل ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایوا بلوچ اپنے قلمی نام ا”یوا بی“ سے جانی جاتی ہیں جنہوں نے میوزک انڈسٹری میں اوپر تلے ہلچل مچائی ہوئی ہے۔

اسپاٹی فائی پر ان کے ماہانہ سامعین کی تعداد تقریباً 4 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ انکے گیت ”کنا یاری“ کو اب تک ایک کروڑ سے زائد بار اسٹریم کیا جاچکا ہے۔

عالمی سطح پر عظیم گلوکار‘ایمینیم‘(Eminem) اور کوئین لطیفہ سے تحریک پاکر ایوا بی (Eva B) نے سال 2014میں اپنے میوزک کیریئر کا آغاز کیا۔

انہوں نے ابتدائی طور پر گیتوں کے بول لکھ کر انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے شروعات کی جہاں انہوں نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی اور انکے پرستاروں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔

انہوں نے ایک طویل سفر طے کیا ہے جس کے دوران انہوں نے بڑے گلوکاروں جیسے علی گل پیر، محمد اور انس بلوچ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ ان کا گیت‘روزی’مس مارول ٹی وی سیریز کی پہلی قسط کے اختتام کا حصہ بننے کا اعزاز رکھتا ہے۔

ایوا بی نے رواں ماہ ایمبیسڈر ایکول پاکستان بننے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، ”میں اسپاٹی فائی کے ایکول پروگرام کا حصہ بننے پر نہایت خوش ہوں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف انتہائی اہم ہیں بلکہ یہ وقت کی اشد ضرورت ہیں۔

پہلی نقاب پوش بلوچ خاتون گلوکارہ ایوا بی کو بطور آرٹسٹ پردے کو اپنی پہچان بنانے پر فخر ہے۔ ان کا روایتی گھرانے سے تعلق ہے، وہ کراچی کے علاقے لیاری میں پلی بڑھی ہیں، اس علاقے کی ہپ ہاپ، طاقتور باکسرز اور فٹ بالرز تیار کرنے کے طور پر پہچان بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں ایوا نے نوجوان نسل بالخصوص خواتین کے لئے شاندار مثال قائم کی ہے کہ اگر آپ ہمت کریں، محنت سے کام لیں اور ثابت قدم رہیں تو کوئی آپ کوروک نہیں سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here