بلوچ عورت،محاذ آزادی کا ہمراہ دار | رامین بلوچ
الجزائر کی آزادی کی جدوجہد کے دوران سویڈن کا ایک صحافی ایک فرانسیسی حراستی کیمپ کا دورہ کرتا ہے، جہاں ہزاروں الجزائری باشندوں کو قید کیا گیا تھا۔ اپنے تاثرات میں وہ لکھتا ہے کہ اس کیمپ میں ایک سات سالہ بچہ بھی تھا۔ اس کے جسم پر لوہے کے تار سے تشدد کیے جانے کے گہرے نشانات تھے۔ فرانسیسی فوجیوں نے اس بستی پر حملے کے دوران اس کی ماں کے ساتھ بدفعلی کی تھی، جبکہ اس کے باپ اور بھائی کو قتل کر دیا گیا تھا۔صحافی نے جب اس بچے سے پوچھا کہ تمہاری سب سے بڑی آرزو کیا ہے، تو بچے نے جواب دیا:”میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اگر کوئی قابض فرانسیسی فوجی میرے ہاتھ لگے تو میں اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں۔”
کاپی اور ایمبیڈ کرنے کے لیے اپنی WordPress سائٹ میں یہ یوآرایل پیسٹ کریں
اپنی ویب سائٹ میں ایمبیڈ کرنے کے لیے اس کوڈ کو کاپی اور پیسٹ کریں