شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ ایک نئے سیاسی اور جغرافیائی بحران کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی اخبار "دی یروشلم پوسٹ”میں شائع ہونے والی ناگیلے کمیشن کی رپورٹ میں اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں مزید بگاڑ کے امکان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، انقرہ اپنی سابقہ عثمانی سلطنت کے اثر و رسوخ کو بحال کرنے کی کوششوں میں اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایران سے بھی بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
ترکی کے بڑھتے عزائم
ترکی نے حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ شام، لیبیا اور دیگر ممالک میں مداخلت کو اس کی پالیسی کا حصہ بتایا جاتا ہے، جو خطے میں عثمانی ورثے کی بحالی کی کوششوں کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ترکی کی ترجیحات میں کرد گروپوں جیسے کردستان ورکرز پارٹی کو دبانا شامل ہے، جسے انقرہ دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔
اسرائیل اور ترکی کے ٹکراؤ کے عوامل
واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے کرد گروپوں کی حمایت، ترکی اور اسرائیل کے مفادات کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرتی ہے۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق، انقرہ پراکسی گروپس کے ذریعے شام میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے، جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
اسرائیلی اقدامات
اسرائیل نے ترکی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر اپنی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے ہیں، جن میں:
-نئے F-15 طیاروں کی خریداری
- فضائی دفاعی نظام کی اپگریڈیشن
- دریائے اردن کی وادی میں قلعہ بندی
شام کی صورتحال اور ترکی کا کردار
بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ شام میں نئے سیاسی ڈھانچے کو جنم دے سکتا ہے، جس میں ایک انتہا پسند نظریے کی حکومت کا قیام بھی ممکن ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ ہے، خاص طور پر جغرافیائی قربت اور شام میں اسٹریٹیجک مراکز پر کنٹرول کی وجہ سے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان شام میں ہونے والی تبدیلیوں کو کرد فورسز کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں، جس سے اسرائیل کے ساتھ مزید کشیدگی کا خدشہ ہے۔
ممکنہ تصادم یا مفادات کا ٹکراؤ
اگرچہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان براہ راست جنگ کا امکان کم ہے، لیکن مبصرین مقامی تنازعات کی پیشگوئی کرتے ہیں، جہاں ترکی کرد تنظیموں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
علاقائی سیاست اور جغرافیائی پیچیدگی
اردگان کی بڑھتی ہوئی آمریت اور علاقائی قیادت کی خواہش نے ترکی کو اسرائیل کے لیے ایک اہم چیلنج بنا دیا ہے۔
- نیٹو کی رکنیت کی وجہ سے ترکی کو مغربی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔
- اسرائیل کو امریکہ کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کا فائدہ حاصل ہے۔
واشنگٹن ترکی کو نیٹو میں رکھنے اور اسرائیل کی حمایت کے درمیان احتیاط سے توازن قائم کر رہا ہے۔
نتیجہ
اردگان موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اپنی اہمیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال نے اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔