پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے جنوبی وزیرستان میں پولیس کاکہنا ہے کہ مشتبہ عسکریت پسندوں نے پاکستانی طالبان کے سابق گڑھ میں واقع لڑکیوں کے ایک اسکول پر بم حملہ کرتے ہوئے اس کا ڈھانچا تباہ کر دیا ہے۔
پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں کیا گیا جب رات کو وہاں کوئی موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مقامی پولیس اہلکار صفدر خان نے کہا کہ رواں ماہ اسی علاقے میں ایک اور اسکول کو بری طرح نقصان پہنچانے کے بعد تخریب کاری کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
فوری طور پر کسی نے بھی اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن شبہ ہے کہ اسے عسکریت پسندوں، خاص طور پر پاکستانی طالبان نے تباہ کیا ہے۔ پاکستانی طالبان خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں اور وہ ماضی میں بھی اس صوبے میں لڑکیوں کے اسکولوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ خواتین کو تعلیم نہیں دینا چاہیے۔
چند برس پہلے، اُس وقت بھی پاکستان کے شمال مغرب میں لڑکیوں کے اسکولوں پر متعدد حملوں ہوئے تھے، جب پاکستانی طالبان سوات سمیت متعدد قبائلی علاقوں پر قابض تھے۔ پاکستانی طالبان، جنہیں تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کہا جاتا ہے، کو حالیہ برسوں کے دوران سوات اور اس سے ملحق دیگر علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔
پاکستانی طالبان خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں اور وہ ماضی میں بھی اس صوبے میں لڑکیوں کے اسکولوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ خواتین کو تعلیم نہیں دینا چاہیےپاکستانی طالبان خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں اور وہ ماضی میں بھی اس صوبے میں لڑکیوں کے اسکولوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ خواتین کو تعلیم نہیں دینا چاہیے۔