بلوچستان کے اضلاع کیچ اور خضدار سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پاکستانی فورسز کی تنصیبات کو مسلح حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایک اور واقعے میں مسلح افراد نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر غیر مسلح کر دیا۔
ذرائع کے مطابق پہلا واقعہ ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے ‘بالیچہ میں جمعرات کی شام پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ کو نشانہ بنایا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق حملے کے دوران یکے بعد دیگرے کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ تاہم، فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب، ضلع خضدار کے علاقے ‘باغبانہ’ میں مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران ڈیوٹی پر مامور 4 پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر حراست میں لے لیا۔ مسلح افراد نے کارروائی کرتے ہوئے چاروں اہلکاروں سے ان کا سرکاری اسلحہ چھین کر اپنے قبضے میں لے لیا اور بعد ازاں انہیں بحفاظت رہا کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق ان دونوں سنسنی خیز واقعات کے رونما ہونے کے بعد تاحال کسی بھی مسلح تنظیم نے ان کارروائیوں کی باقاعدہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، اور نہ ہی متعلقہ حکام یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی باقاعدہ سرکاری بیان سامنے آیا ہے۔
واقعات کے بعد دونوں اضلاع میں سیکورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔