بلوچستان کی آزادی کے لئے سرگرم و متحرک مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے پہلی بار اپنی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کی خصوصی ویڈیو پیغام جاری کردی ہے ۔
22 مئی 2026 کو بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے میڈیا وِنگ "ہکل” نے تقریباً 11 منٹ اور 41 سیکنڈ پر مشتمل ایک ویڈیو جاری کی، جس میں شہناز بلوچ کو دکھایا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بلوچ خاتون جنگجو میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بشمول ٹیلیگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، پر وسیع پیمانے پر گردش کرتی رہی، جہاں بلوچستان اور شورش پسند سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے اکاؤنٹس نے اسے شیئر کیا۔
ویڈیو کا انداز ہکل کی سابقہ ریلیز کے مطابق ہے، جس میں براہِ راست کیمرے سے گفتگو، مسلح جنگجوؤں کی تربیتی اور فیلڈ سرگرمیوں کی فوٹیج، اور بلوچستان کے پہاڑی و صحرائی مناظر شامل ہیں۔
ویڈیو میں ٹویوٹا پک اپ گاڑیوں میں سفر کرتے مسلح جنگجو،اسلحہ چلانے کی مشقیں اور قافلوں کی نقل و حرکت،جھنڈوں اور گروہی تشکیل کی علامتی تصاویر،مرد جنگجوؤں کے ساتھ خواتین کی موجودگی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
شہناز بلوچ کو جنگی سازوسامان، بشمول کیموفلاج جیکٹ اور کیپ، کے ساتھ روایتی بلوچی کڑھائی والے لباس میں دکھایا گیا ہے۔ وہ کھلے میدان میں مسلح جنگجوؤں اور گاڑیوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔
شہناز بلوچ نے ویڈیو میں خود کو کمانڈر کے طور پر متعارف کرایا اور بتایا کہ وہ تقریباً سات سال قبل بطور عام رکن تنظیم میں شامل ہوئیں۔
بی ایل اے کمانڈر شہناز بلوچ اپنے پیغام میں کہتی ہے کہ تاریخ یہ ثابت کرے گی، اس کی گواہی دے گی کہ یہ شرف و عزت دنیا، بالخصوص عرب و یورپ میں خواتین کو حاصل نہیں تھی، جو شرف و عزت بلوچ خواتین کو دی جاتی تھی۔ بلوچ خواتین کو اُس وقت یہ شرف و عزت حاصل تھی اور انہیں بلوچ مردوں کے برابر سمجھا جاتا تھا اور انہیں اپنے ساتھ رکھا جاتا تھا۔ بلوچ سماج میں اس کی سب سے بڑی مثال میر چاکر خان رند کی بہن بانڈی بلوچ تھیں کہ آج سے پانچ سو سال پہلے وہ بلوچ جنگ کا حصہ تھیں اور بلوچ مردوں کو کمان کرتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اس طرح کی ایک نہیں بلکہ کئی مثالیں ہمارے سماج کے اندر موجود ہیں لیکن اسے ہماری بدبختی کہیں یا ہماری کمزوری،انگریز یہاں آتا ہے اور سنڈیمن کے فرسودہ نظام کو رائج کرتا ہے، پھر پاکستان کا فرسودہ نظام ہم پر مسلط ہوتا ہے اور ہمارے مردوں و خواتین کے درمیان تفریق پیدا کرتا ہے۔ وہ ہمارے علاقے، زبان، کلچر، جغرافیہ، ہر چیز کو تقسیم کرتا ہے لیکن آج میری قوم،بی ایل اے کی انقلابی اپروچ، و شاری جیسے عظیم سنگت کی قربانیوں، دیگر ساتھیوں کی محنت اور بلوچ قوم کی ترقی پسندانہ سوچ کی بدولت بلوچ خواتین اور مرد ایک فرنٹ اور ایک وتاک میں انقلابی زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا کردار ذاتی اور خاندانی دفاع سے بڑھ کر ایک وسیع تر قومی مقصد کی طرف بڑھا ہے۔ ان کے بیانات میں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو تحریک میں شامل ہونے کی اپیل شامل ہے۔
پیغام میں قومی تشخص، تاریخی بلوچ شخصیات کے حوالہ جات، بلوچستان میں پاکستانی ریاستی اختیار پر تنقید، اور مزاحمت جاری رکھنے کی کال شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ریلیز بی ایل اے کی جانب سے خواتین کی شمولیت کو اجاگر کرنے کی مسلسل کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
بی ایل اے نے اس سے قبل بھی خواتین کی کارروائیوں کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کی، جن میں 2022 میں کراچی میں شاری بلوچ کی جانب سے خودکش حملہ شامل ہے، اور حالیہ برسوں میں خواتین کی شرکت کو نمایاں کرنے والے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق میڈیا مہم میں خواتین کمانڈروں اور جنگجوؤں کی شمولیت کئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔جن میں بھرتی کے دائرہ کار کو وسیع کرنا،تنظیمی اتحاد اور شمولیت کا تاثر دینا،جنگ آزادی کو صرف مردوں کی قیادت تک محدود سمجھنے کے تصور کو چیلنج کرنا شامل ہیں۔
یہ ریلیز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بی ایل اے کی جانب سے پاکستانی فورسز، انفراسٹرکچر اور ریاستی منصوبوں پر حملے جاری ہیں۔
ویڈیو کے شائع ہوتے ہی آن لائن نمایاں ردعمل سامنے آیا، جو بلوچستان میں شورش اور علیحدگی پسند تحریکوں سے متعلق دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
شہناز بلوچ کی بطور عوامی خاتون کمانڈر پیشی تنظیم کی میڈیا حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو خواتین کی نمایاں موجودگی پر بڑھتے ہوئے زور کو اجاگر کرتی ہے۔