تربت: یونیورسٹی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعدطلباکا دھرناموخر

0
34

اسٹوڈنٹس الائنس تربت اور تربت یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد6 دنوں سے جاری دھرنا مارچ تک موخر کردیا گیا۔

تربت یونیورسٹی کے ایک وفد نے پیر کی شام ڈاکٹر حنیف الرحمن کی سربراہی میں اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن تربت کی جانب سے فیسوں میں اضافہ کے خلاف یونیورسٹی کی مین گیٹ پر لگائے گئے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا جہاں وفد نے طلبہ سے ان کے مسائل سنے اور مارچ کو اکیڈمک کونسل کی اجلاس میں فیسوں میں اضافہ کا فیصلہ واپس لینے، طلبہ سے چار اقساط میں فیسوں کی وصولی، ہاسٹل قوانین میں نرمی اور طلبہ کو ٹرانسپورٹ و ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ مذاکرات کی خبر یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کا اعلان بھی کیا۔

طلبہ نے اس یقین دہانی کے بعد ویب سائٹ پر نیوز شائع ہوتے ہی احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرکے احتجاج مارچ کو یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کے اجلاس تک موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے چھ دنوں سے جاری کیمپ ختم کردیا، وفد میں یونیورسٹی کی طرف سے لیکچرر جمیل احمد بادینی، میڈم رقیہ، ڈاکٹر یاسین دشتی و دیگر شامل تھے، اس سے قبل اپنے مطالبات کے حق میں پیر کی صبح اسٹوڈنٹس کونسل تربت نے یونیورسٹی کے اندر ریلی نکالی اور ایڈمن بلاک کے سامنے مظاہرہ کیا، اسٹوڈنٹس الائنس کے اتحاد میں بی ایس او پجار، بی ایس او،بساک شامل تھے جبکہ تربت سول سوسائٹی نے احتجاج کی حمایت کی تھی تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست6 دنوں سے مسلسل طلبہ کے ساتھ احتجاجی کیمپ میں موجود رہے۔

یاد رہے کہ 2روز قبل آل پارٹیز کیچ کے وفد نے یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرجان محمد سے ملاقات کرکے احتجاجی طلبہ کے مسائل کے حوالے سے مذاکرات کئے تھے جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے آل پارٹیز کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے طلباء سے ملاقات کرکے فیسوں کے مسئلہ کو مارچ میں منعقدہ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں پیش کرنے تک اضافی فیسوں کی وصولی موخر کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم طلباء نے یونیورسٹی کے افیشل پیج پر مذاکرات کی نیوز شائع ہونے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کافیصلہ کیا تاہم اسٹوڈنٹس الائنس نے پیر کی شام احتجاجی دھرنا مارچ کے مہینہ تک سینڈیکیٹ اجلاس کے فیصلہ تک موخر کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here