بلوچ نسل کشی کی شدت میں ریاست روز اضافہ کر رہا ہے، ماما قدیر

0
90

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کی احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4875 دن مکمل ہو گئے ہیں۔

مستونگ سے سیاسی و سماجی کارکنان محمد عظیم بلوچ نور محمد بلوچ دستگیر بلوچ مرد و ِخواتین نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پروی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ سالوں سے بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کی شدت میں ریاست روز اضافہ کر رہا ہے بلوچوں کو جبری لاپتہ کر کے انہیں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی عوامل جاری تھے کہ ریاست پاکستان نے ان بلوچ نسل کش پالیسیوں کے شدت میں اضافہ کرتے ہوئے اب عام بلوچ شہریوں کے گھروں پر بمباری کرنے چادر و چار دیواری کی پامالی کر کے انہیں لوٹنے اور بعدازاں جلانے کا نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ریاست کی طرف سے بلوچ نسل کشی کی ایک تازہ مثال ہمیں اطلاع ملی کہ کوہلو کاہان آپریشن میں نو افراد کر دیے گئے ہیں لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ ہسپتال پر فورسزز کا سِختم پیرا ہے انہیں دیکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے لاشوں کی بدبو علاقے میں پھیل چکی ہے ہوسکتا وہ لاپتہ افراد کی نہ ہوں اس وقت بلوچستان میں ایک سنگین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاستی فورسزز کی گذشتہ دو مہینے میں مزید شدت پائی کاروائیاں اس امکان کو مستحکم کرتی ہیں کہ اب ریاست پاکستان بلوچستان کسی عالمی قانون کو خاطر میں لانے کا لانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور بلوچ پرامن جدوجہد کو کچلنے کیلیے اپنے پیش رو قابضوں کی طرح سروں کا مینا کھڑا کرنے سے بھی نہیں چونکے گا آوارن جاو میں 5 سے زائد بلوچوں کو شہید کر کے نا صرف درجنوں بلوچوں کو جبری اغوا کر کے اپنے عقوبت خانوں میں منتقل کر چکے ہیں بلکہ آبادیوں کے آبادی جلا کر خاکستر کر چکے ہیں مشکے میں بھی آہے روڑ کے فضائی اور زمینی اور آپریشنوں میں لوگوں کو شدید جانی مالی نقصانات سے دوچار کرچکے اور ساتھ ساتھ گزشتہ ایک ہفتہ سے قلات کے ملحقہ دیء علاقوں کو اپنے فوج کے ذریعے گھیرے میں لیکر عام آبادیوں کا راشن پانی کے سارے ذرائع مسدود کر چکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here